hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 16593

.

سنن البيهقي

16593
Sunan Al Bayhaqi
(۱۶۵۸۷) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَیْحٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ کَانَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَ کَسَرَ سَیْفَ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا ثُمَّ قَامَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَخَطَبَ النَّاسَ وَاعْتَذَرَ إِلَیْہِمْ وَقَالَ وَاللَّہِ مَا کُنْتُ حَرِیصًا عَلَی الإِمَارَۃِ یَوْمًا وَلاَ لَیْلَۃٍ قَطُّ وَلاَ کُنْتُ فِیہَا رَاغِبًا وَلاَ سَأَلْتُہَا اللَّہَ فِی سِرٍّ وَلاَ عَلاَنِیَۃٍ وَلَکِنِّی أَشْفَقْتُ مِنَ الْفِتْنَۃِ وَمَا لِی فِی الإِمَارَۃِ مِنْ رَاحَۃٍ وَلَکِنْ قُلِّدْتُ أَمْرًا عَظِیمًا مَا لِی بِہِ طَاقَۃٌ وَلاَ یَدَانِ إِلاَّ بِتَقْوِیَۃِ اللَّہِ وَلَوَدِدْتُ أَنَّ أَقْوَی النَّاسِ عَلَیْہَا مَکَانِی عَلَیْہَا الْیَوْمَ فَقَبِلَ الْمُہَاجِرُونَ مِنْہُ مَا قَالَ وَمَا اعْتَذَرَ بِہِ وَقَالَ عَلِیٌّ وَالزُّبَیْرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : مَا غَضِبْنَا إِلاَّ لأَنَّا أُخِّرْنَا عَنِ الْمُشَاوَرَۃِ وَإِنَّا نَرَی أَبَا بَکْرٍ أَحَقَّ النَّاسِ بِہَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِنَّہُ لِصَاحِبُ الْغَارِ وَثَانِی اثْنَیْنِ وَإِنَّا لَنَعْرِفُ شَرَفَہُ وَکِبَرَہُ وَلَقَدْ أَمَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالصَّلاَۃِ بِالنَّاسِ وَہُوَ حَیٌّ۔ [ضعیف]
(١٦٥٨٧) ابر ہیم بن عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف حضرت عمر (رض) کے ساتھ تھے اور محمد بن مسلمہ نے زبیر کی تلوار کو توڑ دیا تھا۔ پھر ابوبکر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا اور ان کے سامنے اپنا عذر پیش کیا اور فرمایا : واللہ مجھے کسی امارت کی نہ تو لالچ ہے اور نہ میں اس کی رغبت رکھتا ہوں اوز نہ ظاہری اور نہ پوشیدہ میں اللہ سے اس کا سوال کرتا ہوں بلکہ مجھے تو ایسے کام کا ذمہ دار بنادیا گیا ہے کہ جس کو میں اٹھا نہیں سکتا مگر صرف اللہ کی مدد کے ساتھ۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ مجھ سے بھی زیادہ اہل لوگ موجود ہیں تو مہاجرین نے ان کی بات اور عذر کو قبول کیا اور علی اور زبیر نے کہا کہ ہم تو اس لیے پیچھے تھے کہ ہم سے مشورہ نہیں لیا تھا ورنہ ابوبکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے زیادہ حق دار ہیں۔ آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زندگی میں نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔