(۱۶۵۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ الْقَوَارِیرِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَعَثَ زَیْدًا وَجَعْفَرًا وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ رَوَاحَۃَ وَدَفَعَ الرَّایَۃَ إِلَی زَیْدٍ فَأُصِیبُوا جَمِیعًا قَالَ أَنَسٌ فَنَعَاہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی النَّاسِ قَبْلَ أَنْ یَجِیئَ الْخَبَرُ قَالَ : أَخَذَ الرَّایَۃَ زَیْدٌ فَأُصِیبَ ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِیبَ ثُمَّ أَخَذَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوَاحَۃَ فَأُصِیبَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّایَۃَ بَعْدُ سَیْفٌ مِنْ سُیُوفِ اللَّہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ ۔ قَالَ فَجَعَلَ یُحَدِّثُ النَّاسَ وَعَیْنَاہُ تَذْرِفَانِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَأَحْمَدَ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ حَمَّادٍ۔
وَفِیہِ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ النَّاسَ إِذَا لَمْ یَکُنْ عَلَیْہِمْ أَمِیرٌ وَلاَ خَلِیفَۃُ أَمِیرٍ فَقَامَ بِإِمَارَتِہِمْ مَنْ ہُوَ صَالِحٌ لِلإِمَارَۃِ وَانْقَادُوا لَہُ انْعَقَدَتْ وِلاَیَتُہُ حَیْثُ اسْتَحْسَنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَا فَعْلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ مِنْ أَخْذِہِ الرَّایَۃَ وَتَأَمُّرِہِ عَلَیْہِمْ دُونَ أَمْرِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَدُونَ اسْتِخْلاَفِ مَنْ مَضَی مِنْ أُمَرَائِ النَّبِیِّ -ﷺ- إِیَّاہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[صحیح]
(١٦٥٩٧) انس بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید، جعفر اور عبداللہ بن رواحہ کو لشکر دے کر بھیجا اور زید بن حارثہ کو امیر بنایا۔ سب کے سب شہید ہوگئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر کے آنے سے پہلے ہی ان تینوں کی شہادت کی خبر دی۔ فرمایا : زید نے جھنڈا تھاما، وہ شہید ہوگئے، پھر جعفر نے اور پھر عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا تھاما، وہ دونوں بھی شہید ہوگئے۔ پھر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید نے جھنڈا تھام لیا۔ آپ یہ بتا رہے تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
اس حدیث میں اس بات پر دلیل ہے کہ جو امارت کا اہل ہو وہ نائب بن سکتا ہے اور اگر دیکھے کہ کوئی اور اہل نہیں تو بغیر مقرر کئے بھی آدمی امیر بن سکتا ہے جیسا کہ خالد بن ولید نے کیا۔