(۱۶۶۵۹) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّیرَازِیُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ مِہْرَانَ الْکِنْدِیُّ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ کُسَیْبٍ الْعَدَوِیِّ قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَامِرٍ یَخْطُبُ النَّاسَ عَلَیْہِ ثِیَابٌ رِقَاقٌ مُرَجِّلٌ شَعَرَہُ قَالَ فَصَلَّی یَوْمًا ثُمَّ دَخَلَ قَالَ وَأَبُو بَکْرَۃَ جَالِسٌ إِلَی جَنْبِ الْمِنْبَرِ فَقَالَ مِرْدَاسٌ أَبُو بِلاَلٍ : أَلاَ تَرَوْنَ إِلَی أَمِیرِ النَّاسِ وَسَیِّدِہِمْ یَلْبَسُ الرِّقَاقَ وَیَتَشَبَّہُ بِالْفُسَّاقِ فَسَمِعَہُ أَبُو بَکْرَۃَ فَقَالَ لاِبْنِہِ الأُصَیْلِعِ ادْعُ لِی أَبَا بِلاَلٍ فَدَعَاہُ لَہُ فَقَالَ أَبُو بَکْرَۃَ أَمَا إِنِّی قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَکَ لِلأَمِیرِ آنِفًا وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ أَکْرَمَ سُلْطَانَ اللَّہِ أَکْرَمَہُ اللَّہُ وَمَنْ أَہَانَ سُلْطَانَ اللَّہِ أَہَانَہُ اللَّہُ ۔ [ضعیف]
(١٦٦٥٩) زیاد بن کسیب عدوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عامر لوگوں کو خطبہ دیتے تھے اور نرم کپڑے پہنے ہوئے اور بالوں کو کنگھی کی ہوتی۔ ایک دن نماز پڑھی، پھر داخل ہوئے ۔ ابو بکرہ منبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو مرداس ابو بلال نے کہا کہ کیا تم امیر کو نہیں دیکھتے جو نرم کپڑے پہنتا ہے اور فساق کی مشابہت کرتا ہے۔ جب یہ بات ابو بکرہ نے سنی تو اپنے بیٹے اصلع کو کہا : ابو بلال کو بلاؤ، وہ بلا لایا۔ تو فرمایا : میں نے تمہارے بارے میں یہ بات سنی ہے جو تم نے امیر کے بارے میں کہی ہے۔ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ جو امیر کی عزت کرے گا اللہ اس کی عزت کرے گا اور جو امیر کو رسوا کرے گا اللہ اسے رسوا کریں گے۔