hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 16666

.

سنن البيهقي

16666
Sunan Al Bayhaqi
(۱۶۶۶۰) أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْحُرْفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْعَلاَئِ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْعَلاَئِ بْنِ زِبْرِیقٍ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ الزُّبَیْدِیِّ وَفِی رِوَایَۃِ الْحُرْفِیِّ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَالِمٍ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ عَامِرٍ وَہُوَ الزُّبَیْدِیُّ حَدَّثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ فَضَالَۃَ یَرُدُّہُ إِلَی ابْنِ عَائِذٍ یَرُدُّہُ ابْنُ عَائِذٍ إِلَی جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ : أَنَّ عِیَاضَ بْنَ غَنْمٍ الأَشْعَرِیَّ وَقَعَ عَلَی صَاحِبِ دَارَائَ حِینَ فُتِحَتْ فَأَتَاہُ ہِشَامُ بْنُ حَکِیمٍ فَأَغْلَظَ لَہُ الْقَوْلَ وَمَکَثَ ہِشَامٌ لَیَالِیَ فَأَتَاہُ ہِشَامٌ یَعْتَذِرُ إِلَیْہِ وَقَالَ لَہُ یَا عِیَاضُ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِی الدُّنْیَا ۔ فَقَالَ لَہُ عِیَاضٌ : یَا ہِشَامُ إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الَّذِی سَمِعْتَ وَرَأَیْنَا الَّذِی رَأَیْتَ وَصَحِبْنَا مَنْ صَحِبْتَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ یَا ہِشَامُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ کَانَتْ عِنْدَہُ نَصِیحَۃٌ لِذِی سُلْطَانٍ فَلاَ یُکَلِّمْہُ بِہَا عَلاَنِیَۃً وَلْیَأْخُذْ بِیَدِہِ فَلْیَخْلُ بِہِ فَإِنْ قَبِلَہَا قَبِلَہَا وَإِلاَّ کَانَ قَدْ أَدَّی الَّذِی عَلَیْہِ وَالَّذِی لَہُ ۔ وَإِنَّکَ یَا ہِشَامُ لأَنْتَ الْجَرِیئُ أَنْ یَجْتَرِئَ عَلَی سُلْطَانِ اللَّہِ فَہَلاَّ خَشِیتَ أَنْ یَقْتُلَکَ سُلْطَانُ اللَّہِ فَتَکُونَ قَتِیلَ سُلْطَانِ اللَّہِ۔ لَفْظُ حَدِیثِہِمَا سَوَاء ٌ۔ [ضعیف]
(١٦٦٦٠) جبیر بننفیرکہتے ہیں کہ عیاض بن غنم اشعری دارائ کے مالک پر واقع ہوگئے، جب وہ فتح کیا گیا تو ہشام بن حکیم آئے اور انھیں بہت سخت باتیں کہیں۔ ہشام چند راتوں کے بعد ان سے معذرت کرنے آگئے تو اس نے عیاض کو کہا : کیا تو نہیں جانتا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن سب سے سخت عذاب اسے ہوگا جو دنیا میں سب سے سخت عذاب لوگوں کو دیتا ہوگا۔ عیاض کہنے لگے : اے ہشام ! جس سے تو نے سنا ہے جن کو تو نے دیکھا ہے جن کے ساتھ تو رہا ہے ہم میں ان سے ملے ہیں۔ ہم نے سنا ہے اور ساتھ رہے ہیں۔ اے ہشام ! کیا تو نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نہیں سنا کہ جس کے پاس امیر کے لیے کوئی نصیحت ہو تو وہ سب لوگوں کے سامنے نہ کہے، ہاتھ پکڑ کر تنہائی میں لے جائے۔ اگر امیر قبول کرلے تو ٹھیک نہ کرے تو اس نے اپنا حق ادا کردیا۔ اے ہشام ! تو بہت جرأت والا ہے، اللہ کے سلطان پر جرأت کر گیا تجھے ڈر نہیں کہ اللہ کا سلطان تجھے قتل کرے تو تو سلطان اللہ کے ہاتھوں سے مقتول ہو۔