(۱۶۶۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ أَبِی نُعْمٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الخُدْرِیِّ قَالَ : بَعَثَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِذُہَیْبَۃٍ فِی تُرْبَتِہَا فَقَسَمَہَا بَیْنَ أَرْبَعَۃٍ بَیْنَ الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِیِّ ثُمَّ الْمُجَاشِعِیِّ وَبَیْنَ عُیَیْنَۃَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِیِّ وَبَیْنَ زَیدِ الخَیْلِ الطَّائِیِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِی نَبْہَانَ وَبَیْنَ عَلْقَمَۃَ بْنِ عُلاَثَۃَ الْعَامِرِیِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِی کِلاَبٍ قَالَ فَغَضِبَتْ قُرَیْشٌ وَالأَنْصَارُ وَقَالَتْ : یُعْطِی صَنَادِیدَ أَہْلِ نَجْدٍ وَیَدَعُنَا فَقَالَ : إِنَّمَا أَتَأَلَّفُہُمْ ۔ قَالَ : فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَیْنَیْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَیْنِ نَاتِئُ الْجَبِینِ کَثُّ اللِّحْیَۃِ مَحْلُوقٌ قَالَ : اتَّقِ اللَّہَ یَا مُحَمَّدُ۔ فَقَالَ : مَنْ یُطِعِ اللَّہَ إِذَا عَصَیْتُہُ أَیَأْمَنُنِی اللَّہُ عَلَی أَہْلِ الأَرْضِ وَلاَ تَأْمَنُونِی ۔ قَالَ فَسَأَلَ رَجُلٌ قَتْلَہُ أَحْسَبُہُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ قَالَ فَمَنَعَہُ قَالَ فَلَمَّا وَلَّی قَالَ : إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ ہَذَا أَوْ فِی عَقِبِ ہَذَا قَوْمًا یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ لاَ یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ یَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ مُرُوقَ السَّہْمِ مِنَ الرَّمِیَّۃِ یَقْتُلُونَ أَہْلَ الإِسْلاَمِ وَیَدَعُونَ عَبَدَۃَ الأَوْثَانِ لَئِنْ أَنَا أَدْرَکْتُہُمْ لأَقْتُلَنَّہُمْ قَتْلَ عَادٍ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ۔[صحیح]
(١٦٦٩٤) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے کچھ سونا مٹی میں ملا ہوا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا تو وہ آپ نے چار کے درمیان تقسیم کردیا اقراع بن حابس حنظلی مجاشعی اور عیینہ بن بدر فزاری اور زید خیل اور علقمہ بن علاقۃ عامری کے درمیان قریش اور انصاری غصہ ہوگئے کہ اہل نجد کے شرفاء کو دے دیا گیا، ہمیں چھوڑ دیا گیا۔ آپ نے فرمایا : میں نے ان کی تألیف قلب کی ہے۔ ایک آدمی دھنسی ہوئی آنکھوں والا، پھولے ہوئے گالوں والا، ابھری ہوئی پیشانی والا ، گھنی داڑھی اور گنجا کہنے لگا : اے محمد ! اللہ سے ڈر یے تو آپ نے فرمایا : اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو اطاعت کون کرے گا ؟ اللہ نے مجھے اہل ارض پر امین بنایا ہے، تم مجھے امین نہیں بناتے۔ تو ایک آدمی غالباً خالد بن ولید نے فرمایا : کیا اسے قتل کر دوں ؟ تو آپ نے روک دیا، جب وہ چلا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی نسل سے ایک قوم ہوگی جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے ، اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بتوں کی پوجا کی طرف بلائیں گے۔ اگر میں انھیں پالوں تو عاد قوم کی طرح انھیں قتل کر دوں۔