(۱۶۷۱۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : لَمَّا صَالَحَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ۔ وَقَالَ ہُشَیْمٌ : لَمَّا سَلَّمَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الأَمْرَ إِلَی مُعَاوِیَۃَ قَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ بِالنُّخَیْلَۃِ قُمْ فَتَکَلَّمْ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَکْیَسَ الْکَیْسِ التُّقَی وَإِنَّ أَعْجَزَ الْعَجْزِ الْفُجُورُ أَلاَ وَإِنَّ ہَذَا الأَمْرَ الَّذِی اخْتَلَفْتُ فِیہِ أَنَا وَمُعَاوِیَۃُ حَقٌّ لاِمْرِئٍ کَانَ أَحَقَّ بِہِ مِنِّی أَوْ حَقٌّ لِی تَرَکْتُہُ لِمُعَاوِیَۃَ إِرَادَۃَ إِصْلاَحِ الْمُسْلِمِینَ وَحَقْنِ دِمَائِہِمْ {وَإِنْ أَدْرِی لَعَلَّہُ فِتْنَۃٌ لَکُمْ وَمَتَاعٌ إِلَی حِینٍ} ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ۔ [ضعیف]
(١٦٧١٢) ہشیم کہتے ہیں کہ جب حضرت حسن معاویہ کے حق میں دستبردار ہوگئے تو معاویہ نے انھیں کہا : کھڑے ہوں اور بات کریں تو حضرت حسن نے حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا : اما بعد ! عقلمندی تقویٰ میں ہے اور عجز گناہوں میں ہے، بیشک اس معاملہ میں میرا اور معاویہ کا اختلاف تھا۔ معاویہ مجھ سے زیادہ حق دار تھا، میرا جو حق تھا وہ میں نے معاویہ کے لیے چھوڑ دیا۔ مسلمانوں کی اصلاح کے لیے اور ان کے خون کی حفاظت کے لیے : { وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّہٗ فِتْنَۃٌ لَّکُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ } [الانبیاء ١١١] پھر استغفار کی اور اتر گئے۔