(۱۶۷۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِکٍ الأَشْجَعِیُّ
(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ الطَّنَافِسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِکٍ الأَشْجَعِیُّ عَنْ أَبِی حَبِیبَۃَ مَوْلَی طَلْحَۃَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَعَ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَۃَ بَعْد مَا فَرَغَ مِنْ أَصْحَابِ الْجَمَلِ قَالَ فَرَحَّبَ بِہِ وَأَدْنَاہُ وَقَالَ : إِنِّی لأَرْجُو أَنْ یَجْعَلَنِی اللَّہُ وَأَبَاکَ مِنْ الَّذِینَ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِہِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوانًا عَلَی سُرَرٍ مُتَقَابِلِینَ} فَقَالَ : یَا ابْنَ أَخٍ کَیْفَ فُلاَنَۃُ؟ کَیْفَ فُلاَنَۃُ؟ قَالَ وَسَأَلَہُ عَنْ أُمَّہَاتِ أَوْلاَدِ أَبِیہِ قَالَ ثُمَّ قَالَ لَمْ نَقْبِضْ أَرْضِیکُمْ ہَذِہِ السِّنِینَ إِلاَّ مَخَافَۃَ أَنْ یَنْتَہِبَہَا النَّاسُ یَا فُلاَنُ انْطَلِقْ مَعَہُ إِلَی ابْنِ قَرَظَۃَ مُرْہُ فَلْیُعْطِہِ غَلَّتَہُ ہَذِہِ السِّنِینَ وَیَدْفَعَ إِلَیْہِ أَرْضَہُ قَالَ فَقَالَ رَجُلاَنِ جَالِسَانِ نَاحِیَۃً أَحَدُہُمَا الْحَارِثُ الأَعْوَرُ : اللَّہُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِکَ أَنْ نَقْتُلَہُمْ وَیَکُونُوا إِخْوَانَنَا فِی الْجَنَّۃِ قَالَ قُومَا أَبْعَدَ أَرْضِ اللَّہِ وَأَسْحَقِہَا فَمَنْ ہُوَ إِذَا لَمْ أَکُنْ أَنَا وَطَلْحَۃُ یَا ابْنَ أَخِی إِذَا کَانَتْ لَکَ حَاجَۃٌ فَأْتِنَا۔
لَفْظُ حَدِیثِ الطَّنَافِسِیِّ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی مُعَاوِیَۃِ قَالَ دَخَلَ عِمْرَانُ بْنُ طَلْحَۃَ عَلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَلَم یُسَمِّ الْحَارِثَ وَقَالَ إِلَی بَنِی قَرَظَۃَ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ۔ [حسن]
(١٦٧١٥) طلحہ کے غلام ابو حبیبہ کہتے ہیں کہ میں حضرت علی (رض) کے پاس آیا، ساتھ عمران بن طلحہ بھی تھے، جنگ جمل کے بعد تو آپ نے ہمیں مرحبا کہا اور اپنے قریب بٹھایا اور فرمایا : مجھے امید ہے کہ مجھے اور آپ کے والد کو اللہ اس آیت میں شامل کرے :{ وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ } [الاعراف ٤٣، الحجر ٤٧] اور پھر فرمایا : اے بھتیجے ! فلانہ فلانہ فلانہ کیسی ہیں اس سے اس کے باپ کی ماؤں کی اولاد کے بارے میں پوچھا : پھر فرمایا : ہم نے اس سال تمہاری زمین پر قبضہ اس لیے کیا ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہاں سے ہم پر ڈاکے پڑیں گے اور کہا : اے فلاں ! ابن قرظہ کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ اسے ان سالوں کا غلہ دے دے اور ان کی زمین بھی لوٹا دے۔ آپ کے پہلو میں دو آدمی بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک کہنے لگا، جس کا نام حارث اعور تھا کہ اللہ سب سے بڑا عادل ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ان سے لڑیں بھی اور پھر جنت میں وہ ہمارے بھائی بھی ہیں تو حضرت علی نے فرمایا : دونوں کھڑے ہو جاؤ اور یہاں سے دور چلے جاؤ۔ جب میں اور طلحہ ایسے ہوسکتے ہیں تو باقی کیوں نہیں ؟ اے بھتیجے ! اگر کوئی ضرورت ہو تو میرے پاس آنا۔