hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 16730

.

سنن البيهقي

16730
Sunan Al Bayhaqi
(۱۶۷۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : کَتَبَ إِلَیْہِ سُلَیْمَانُ بْنُ ہِشَامٍ یَسْأَلُہُ عَنِ امْرَأَۃٍ فَارَقَتْ زَوْجَہَا وَشَہِدَتْ عَلَی قَوْمِہَا بِالشِّرْکِ وَلَحِقَتْ بِالْحَرُورِیَّۃِ فَتَزَوَّجَتْ فِیہِمْ ثُمَّ جَائَ تْ تَائِبَۃً۔ قَالَ فَکَتَبَ إِلَیْہِ الزُّہْرِیُّ وَأَنَا شَاہِدٌ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْفِتْنَۃَ الأُولَی ثَارَتْ وَفِی أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا فَرَأَوْا أَنْ یُہْدَمَ أَمْرُ الْفِتْنَۃِ لاَ یُقَامُ فِیہَا حَدٌّ عَلَی أَحَدٍ فِی فَرْجٍ اسْتَحَلَّہُ بِتَأْوِیلِ الْقُرْآنِ وَلاَ قِصَاصٌ فِی دَمٍ اسْتَحَلَّہُ بِتَأْوِیلِ الْقُرْآنِ وَلاَ مَالٍ اسْتَحَلَّہُ بِتَأْوِیلِ الْقُرْآنِ إِلاَّ أَنْ یُوجَدَ شَیْء ٌ بِعَیْنِہِ وَإِنِّی أَرَی أَنْ تَرُدَّہَا إِلَی زَوْجِہَا وَتُحِدَّ مَنْ قَذَفَہَا۔ [صحیح]
(١٦٧٢٤) زہری کہتے ہیں کہ انھیں ہشام نے ایک عورت کے بارے میں سوال لکھ کر بھیجا کہ وہ اپنے خاوند سے جدا ہوگئی اور پھر مشرک بن کر اپنی قوم میں چلی گئی اور وہاں شادی کرلی پھر وہ آئی اور توبہ کرلی۔ تو زہری نے ان کو لکھ کر بھیجا : اما بعد ! بیشک جو فتنہ اولیٰ پھیلا تھا جس وقت میں اصحاب بدر بھی تھے تو وہ فتنہ کو ختم کرنے کے لیے اس پر حد نہیں لگاتے تھے کہ جس نے قرآن کی تفسیر کر کے فرج کو حلال کیا ہو اور نہ اس پر قصاص لیتے تھے جس نے قرآن سے خون کو حلال سمجھا ہو اور نہ مال جو اس نے قرآن کی تأویل سے حلال سمجھا ہو مگر بعینہ اسی طرح مل جاتا تو مداوا کرتے اور میرا خیال یہ ہے کہ اسے اس کے خاوند کے پاس واپس لوٹا دیا جائے اور تہمت کی حد لگا دی جائے۔