(۱۶۷۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِی مَنِیعٍ حَدَّثَنَا جَدِّی عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : لَمَّا اسْتَخْلَفَ اللَّہُ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ عَنِ الإِسْلاَمِ خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ غَازِیًا حَتَّی إِذَا بَلَغَ نَقْعًا مِنْ نَحْوِ النَّقِیعِ خَافَ عَلَی الْمَدِینَۃِ فَرَجَعَ وَأَمَّرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ سَیْفَ اللَّہِ وَنَدَبَ مَعَہُ النَّاسَ وَأَمَرَہُ أَنْ یَسِیرَ فِی ضَاحِیَۃِ مُضَرَ فَیُقَاتِلَ مَنِ ارْتَدَّ مِنْہُمْ عَنِ الإِسْلاَمِ ثُمَّ یَسِیرَ إِلَی الْیَمَامَۃِ فَیُقَاتِلَ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابَ فَسَارَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَقَاتَلَ طُلَیْحَۃَ الْکَذَّابَ الأَسَدِیَّ فَہَزَمَہُ اللَّہُ وَکَانَ قَدِ اتَّبَعَہُ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَیْفَۃَ یَعْنِی الْفَزَارِیَّ فَلَمَّا رَأَی طُلَیْحَۃُ کَثْرَۃَ انْہِزَامِ أَصْحَابِہِ قَالَ وَیْلَکُمْ مَا یَہْزِمُکُمْ قَالَ رَجُلٌ مِنْہُمْ أَنَا أُحَدِّثُکَ مَا یَہْزِمُنَا إِنَّہُ لَیْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلاَّ وَہُوَ یُحِبُّ أَنْ یَمُوتَ صَاحِبُہُ قَبْلَہُ وَإِنَّا لَنَلْقَی قَوْمًا کُلُّہُمْ یُحِبُّ أَنْ یَمُوتَ قَبْلَ صَاحِبِہِ وَکَانَ طُلَیْحَۃُ شَدِیدَ الْبَأْسِ فِی الْقِتَالِ فَقَتَلَ طُلَیْحَۃُ یَوْمَئِذٍ عُکَّاشَۃَ بْنَ مِحْصَنٍ وَابْنَ أَقْرَمَ فَلَمَّا غَلَبَ الْحَقُّ طُلَیْحَۃَ تَرَجَّلَ ثُمَّ أَسْلَمَ وَأَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ فَرَکِبَ یَسِیرُ فِی النَّاسِ آمِنًا حَتَّی مَرَّ بِأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْمَدِینَۃِ ثُمَّ نَفَذَ إِلَی مَکَّۃَ فَقَضَی عُمْرَتَہُ وَمَضَی خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ قِبَلَ الْیَمَامَۃِ حَتَّی دَنَا مِنْ حِیٍّ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ فِیہِمْ مَالِکُ بْنُ نُوَیْرَۃَ وَکَانَ قَدْ صَدَّقَ قَوْمَہُ فَلَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَمْسَکَ الصَّدَقَۃَ فَبَعَثَ إِلَیْہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَرِیَّۃً فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی قَتْلِ مَالِکِ بْنِ نُوَیْرَۃَ قَالَ وَمَضَی خَالِدٌ قِبَلَ الْیَمَامَۃِ حَتَّی قَاتَلَ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابَ وَمَنْ مَعَہُ مِنْ بَنِی حَنِیفَۃَ فَاسْتَشْہَدَ اللَّہُ مِنْ أَصْحَابِ خَالِدٍ أُنَاسًا کَثِیرًا مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ وَہَزَمَ اللَّہُ مُسَیْلِمَۃَ وَمَنْ مَعَہُ وَقَتَلَ مُسَیْلِمَۃَ یَوْمَئِذٍ مَوْلًی مِنْ مَوَالِی قُرَیْشٍ یُقَالَ لَہُ وَحْشِیٌّ۔ [حسن]
(١٦٧٢٨) زہری کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر خلیفہ بنے اور عرب مرتد ہونے لگے تو حضرت ابوبکر نے ان کے خلاف جہاد شروع کیا۔ جب ان کی گردن تک پہنچے تو مدینہ کی طرف سے خوف ہوا واپس آئے اور خالد بن ولید کو امیر بنایا اور انھیں لوگوں کی ایک فوج دی اور حکم دیا کہ مضر کی طرف جاؤ اور وہاں جو مرتدین ہیں ان سے قتال کرو۔ پھر یمامہ کی طرف مسیلمہ کذاب سے قتال کریں اور پھر خالد بن ولید طلیحہ اسدی کذاب سے لڑے اور اسے اللہ کے حکم سے شکست دی۔ جب طلیحہ نے دیکھا کہ اس کے ساتھ کثرت سے قتل ہو رہے ہیں تو کہنے لگا : تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کیوں شکست کھا رہے ہو ؟ تو ان میں سے ایک شخص کہنے لگا : میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ میں بچ جاؤں، دوسرا مارا جائے اور ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ پہلے میں شہید ہو جاؤں۔ طلیحہ کو اس جنگ میں بہت مصیبت اٹھانی پڑی اور اس نے اس دن عکاشہ بن محصن اور ابن اقرم کو شہید کیا۔ جب حق غالب آگیا تو طلیحہ پیدل بھاگ گیا، پھر مسلمان ہوگیا اور عمرہ کے لیے مدینہ میں تلبیہ کہا حضرت ابوبکر کے پاس سے گزرا اور مکہ پہنچ کر اپنا عمرہ ادا کیا اور خالد بن ولید یمامہ سے لوٹے اور قبیلہ بنو تمیم کے پاس پہنچے۔ ان میں مالک بن نویرہ بھی تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد اس نے صدقہ دینا بند کردیا تھا تو حضرت خالد نے ان کی طرف ایک سریہ بھیجا۔ الحدیث۔ مالک بن نویرہ اس میں قتل ہوگیا اور خالد نے یمامہ میں مسیلمہ سے لڑائی کی اور اسے شکست دی اور مسیلمہ ایک قریشی شخص کے ایک غلام کے ہاتھوں مارا گیا جس کا نام وحشی تھا۔