hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 16743

.

سنن البيهقي

16743
Sunan Al Bayhaqi
(۱۶۷۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ جَہَّزَ بَعْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- جُیُوشًا عَلَی بَعْضِہَا شُرَحْبِیلُ بْنُ حَسَنَۃَ وَیَزِیدُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَسَارُوا حَتَّی نَزَلُوا الشَّامَ فَجَمَعَتْ لَہُمُ الرُّومُ جُمُوعًا عَظِیمَۃً فَحُدِّثَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِذَلِکَ فَأَرْسَلَ إِلَی خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَہُوَ بِالْعِرَاقِ أَوْ کَتَبَ أَنِ انْصَرِفْ بِثَلاَثَۃِ آلاَفِ فَارِسٍ فَأَمِدَّ إِخْوَانَکَ بِالشَّامِ وَالْعَجَلَ الْعَجَلَ فَأَقْبَلَ خَالِدٌ مُغِذًّا جَوَادًا فَاشْتَقَّ الأَرْضَ بِمَنْ مَعَہُ حَتَّی خَرَجَ إِلَی ضُمَیْرٍ فَوَجَدَ الْمُسْلِمِینَ مُعَسْکِرِینَ بِالْجَابِیَۃِ وَتَسَامَعَ الأَعْرَابُ الَّذِینَ کَانُوا فِی مَمْلَکَۃِ الرُّومِ بِخَالِدٍ فَفَزِعُوا لَہُ فَفِی ذَلِکَ یَقُولُ قَائِلُہُمْ: أَلاَ یَا أَصْبَحِینَا قَبْلَ خَیْلِ أَبِی بَکْرِ لَعَلَّ مَنَایَانَا قَرِیبٌ وَمَا نَدْرِی وَفِی رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْمَبْسُوطِ: أَلاَ فَاصْبَحِینَا قَبْلَ نَائِرَۃِ الْفَجْرِ أَطَعْنَا رَسُولَ اللَّہِ مَا کَانَ وَسْطَنَا فَإِنَّ الَّذِی سَأَلُوکُمُ فَمَنَعْتُمُ سَنَمْنَعُہُمْ مَا کَانَ فِینَا بَقِیَّۃٌ لَعَلَّ مَنَایَانَا قَرِیبٌ وَمَا نَدْرِی فَیَا عَجَبًا مَا بَالُ مُلْکِ أَبِی بَکْرِ لَکَالتَّمْرِ أَوْ أَحْلَی إِلَیْہِمْ مِنَ التَّمْرِ کِرَامٌ عَلَی الْعَزَّائِ فِی سَاعَۃِ الْعُسْرِ وَہَذَا فِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتُہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ عَنِ الشَّافِعِیِّ فَذَکَرَ ہَذِہِ الأَبْیَاتَ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالُوا لأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : بَعْدَ الإِسَارِ مَا کَفَرْنَا بَعْدَ إِیمَانِنَا وَلَکِنْ شَحَحْنَا عَلَی أَمْوَالِنَا۔
(١٦٧٣٧) عبدالرحمن بن جبیر فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر نے کچھ لشکر تیار کیے : کسی پر شرحبیل بن حسنہ ، کسی پر یزید بن ابی سفیان اور کسی پر عمرو بن عاص کو امیر مقرر فرمایا ۔ یہ چلے گئے، یہاں تک کہ شام میں اترے تو رومیوں نے ان کے مقابلے میں بہت بڑی فوج جمع کرلی۔ حضرت ابوبکر پتہ چلا تو آپ نے خالد بن ولید جو عراق میں تھے کو لکھا کہ شام پہنچو اور اپنے بھائیوں کی مدد کرو اور جلدی کرو تو حضرت خالد بڑی تیز رفتاری کے ساتھ متوجہ ہوئے، زمین پر ان کے ساتھ مشقت ہوگئی جو آپ کے ساتھ تھے، آپ ضمیر کی طرف نکلے جہاں مسلمان جابیہ سے لڑ رہے تھے اور جو رومی اعراب تھے۔ انھوں نے جب خالد بن ولید کے بارے میں سنا تو گھبرا گئے۔ اس کے بارے میں کسی کہنے والے نے کہا ہے : ” ہائے کاش ! ہم گزر جائیں، ابوبکر کے شہسوار سے پہلے ہماری موت قریب ہے اور ہمیں پتہ بھی نہیں “ اور مبسوط میں شافعی سے اس طرح منقول ہے۔
ہائے ہم نے صبح کی فجر کے پھوٹنے سے پہلے
شاید ہماری موت قریب ہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں
ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی ہم ان کے درمیان نہیں تھے
کتنی عجیب بات ہے کہ کیا ہوگیا ہے ابوبکر کی بادشاہت کو
وہ جو انھوں نے تم سے مانگا ہے اور تم نے روک دیا
وہ کھجور کی طرح یا کھجور سے بھی میٹھا ہے ان کے نزدیک
ہم بھی ان کو روکیں گے جب تک ہم میں بقاء ہے
تنگی کی گھڑی میں عزت دار کے یہی لائق ہے
امام شافعی فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا کہ ہم نے کفر نہیں کیا، لیکن اپنے سال کے لحاظ سے ہم بخیل ہوگئے ہیں۔