(۱۶۷۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی طَلْحَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ قَالَ : کَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَأْمُرُ أُمَرائَ ہُ حِینَ کَانَ یَبْعَثُہُمْ فِی الرِّدَّۃِ إِذَا غَشِیتُمْ دَارًا فَإِنْ سَمِعْتُمْ بِہَا أَذَانًا بِالصَّلاَۃِ فَکُفُّوا حَتَّی تَسْأَلُوہُمْ مَاذَا نَقَمُوا فَإِنْ لَمْ تَسْمَعُوا آذَانًا فَشُنُّوہَا غَارَۃً وَاقْتُلُوا وَحَرِّقُوا وَانْہِکُوا فِی الْقَتْلِ وَالْجِرَاحِ لاَ یُرَی بِکُمْ وَہْنٌ لِمَوْتِ نَبِیِّکُمْ -ﷺ-۔ [ضعیف]
(١٦٧٣٨) طلحہ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر جب اہل الردۃ سے جہاد کے لیے بھیجتے تو امراء کو حکم دیتے کہ جب تم ان کے گھروں تک پہنچ جاؤ تو رک جاؤ۔ اگر تم اذان کی آواز سنو تو ان سے ان کی ناراضگی کا سبب پوچھو۔ اگر اذان کی آواز نہ سنو تو حملہ کر دو ، انھیں مارو قتل کرو جلاؤ زخمی کرو۔ تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت کی وجہ سے تم میں موت کا خوف نہ آئے۔