(۱۶۷۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ قَالَ أُرَاہُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ حَدَّثَنِی عَمِّی أَوْ عَمٌّ لِی قَالَ : لَمَّا تَوَاقَفْنَا یَوْمَ الْجَمَلِ وَقَدْ کَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ صَفَّنَا نَادَی فِی النَّاسِ لاَ یَرْمِیَنَّ رَجُلٌ بِسَہْمٍ وَلاَ یَطْعُنُ بِرُمْحٍ وَلاَ یَضْرِبُ بِسَیْفٍ وَلاَ تَبْدَئُ وا الْقَوْمَ بِالْقِتَالِ وَکَلِّمُوہُمْ بِأَلْطَفِ الْکَلاَمِ وَأَظُنُّہُ قَالَ فَإِنَّ ہَذَا مَقَامٌ مَنْ فَلَجَ فِیہِ فَلَجَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَلَمْ نَزَلْ وُقُوفًا حَتَّی تَعَالَی النَّہَارُ حَتَّی نَادَی الْقَوْمُ بِأَجْمُعِہِمْ یَا ثَارَاتِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَنَادَی عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُحَمَّدَ ابْنَ الْحَنَفِیَّۃِ وَہُوَ أَمَامَنَا وَمَعَہُ اللِّوَائُ فَقَالَ یَا ابْنَ الْحَنَفِیَّۃِ مَا یَقُولُونَ فَأَقْبَلَ عَلَیْنَا مُحَمَّدُ ابْنُ الْحَنَفِیَّۃَ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ یَا ثَارَاتِ عُثْمَانَ فَرَفَعَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَدَیْہِ فَقَالَ اللَّہُمَّ کُبَّ الْیَوْمَ قَتَلَۃَ عُثْمَانَ لِوُجُوہِہِمْ۔ [حسن]
(١٦٧٤٣) یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ مجھے میرے چچا نے بیان کیا کہ جب ہم جنگ جمل کے لیے تیار ہوئے تو حضرت علی نے فرمایا : کوئی تیر سے نہ مارے اور نہ نیزے سے اور نہ تلوار سے تم نے لڑائی میں پہل نہیں کرنی اور ان سے نرم بات کرنی ہے اور مجھے گمان ہے کہ یہ بھی فرمایا : جو آج کامیاب ہوگیا، وہ روز قیامت بھی کامیاب ہوگا۔ ہم اسی حالت میں رہے کہ دن ہوگیا تو ایک شخص نے بلند آواز سے پکارا : ہائے عثمان کے خون کا بدلہ ! تو حضرت علی نے محمد بن حنفیہ کو پکارا ، وہ ہمارے آگے تھے ان کے پاس جھنڈا تھا پوچھا : اے ابن حنفیہ ! وہ کیا پکار رہے ہیں ؟ جواب دیا : وہ عثمان کے خون کا بدلہ کی بات کر رہے ہیں، اے امیر المؤمنین ! تو حضرت علی نے فرمایا : اپنے ہاتھ بلند کئے اور فرمایا : اے اللہ ! آج ان کے منہ سے قتل عثمان کو پچھاڑ دے۔