(۱۶۷۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا أَبُو مَیْمُونَۃَ عَنْ أَبِی بَشِیرٍ الشَّیْبَانِیِّ فِی قِصَّۃِ حَرْبِ الْجَمَلِ قَالَ فَاجْتَمَعُوا بِالْبَصْرَۃِ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَنْ یَأْخُذُ الْمُصْحَفَ ثُمَّ یَقُولُ لَہُمْ مَاذَا تَنْقِمُونَ تُرِیقُونَ دِمَائَ نَا وَدِمَائَ کُمْ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ۔ فَقَالَ : إِنَّکَ مَقْتُولٌ۔ قَالَ : لاَ أُبَالِی۔ قَالَ : خُذِ الْمُصْحَفَ۔
قَالَ : فَذَہَبَ إِلَیْہِمْ فَقَتَلُوہُ ثُمَّ قَالَ مِنَ الْغَدِ مِثْلَ مَا قَالَ بِالأَمْسِ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا۔ قَالَ : إِنَّکَ مَقْتُولٌ کَمَا قُتِلَ صَاحِبُکَ۔ قَالَ : لاَ أُبَالِی۔ قَالَ : فَذَہَبَ فَقُتِلَ ثُمَّ قُتِلَ آخِرَ کُلِّ یَوْمٍ وَاحِدٌ۔ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قَدْ حَلَّ لَکُمْ قِتَالُہُمُ الآنَ قَالَ فَبَرَزَ ہَؤُلاَئِ وَہَؤُلاَئِ فَاقْتَتَلُوا قِتَالاً شَدِیدًا۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ أَبُو بَشِیرٍ فَرَدَّ عَلَیْہِمْ مَا کَانَ فِی الْعَسْکَرِ حَتَّی الْقِدْرَ۔
(١٦٧٤٥) ابوبشیرشیبانی جنگ جمل کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ سب بصرہ میں جمع ہوئے تو علی نے فرمایا : مصحف کون پکڑے گا ؟ پھر انھیں کہا : تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم ہمارے اور اپنے خون بہا رہے ہو ؟ ایک شخص نے کہا : اے امیر المؤمنین ! میں تو فرمایا : تو قتل ہوجائے گا۔ کہا : کوئی بات نہیں تو فرمایا : مصحف لے لو۔ وہ گیا تو انھوں نے اسے قتل کردیا۔ اس طرح حضرت علی نے ٣ لوگوں کو مصحف دے کر بھیجا، لیکن انھوں نے قتل کردیا تو حضرت علی نے فرمایا : اب قتال حلال ہوگیا تو بہت گھمسان کی جنگ ہوئی اور پھر آگے مکمل وہ حدیث بیان کی جو جنگ جمل کے بارے میں گزر چکی ہے۔