(۱۶۷۹۸) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الدُّولاَبِیُّ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا أَبَا ذَرٍّ کَیْفَ تَصْنَعُ إِذَا بَلَغَ النَّاسُ مِنَ الْجَہْدِ مَا یُعْجِزُ الرَّجُلَ أَنْ یَقُومَ مِنْ فِرَاشِہِ إِلَی مُصَلاَّہُ؟ ۔فَقُلْتُ : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ: تَعَفَّفُ ۔ ثُمَّ قَالَ : کَیْفَ تَصْنَعُ یَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا کَثُرَ الْمَوْتُ حَتَّی یَصِیرَ الْبَیْتُ بِالْعَبْدِ ۔ قُلْتُ : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ : تَصْبِرُ ۔ ثُمَّ قَالَ : یَا أَبَا ذَرٍّ کَیْفَ تَصْنَعُ إِذَا کَثُرَ الْقَتْلُ حَتَّی تَغْرَقَ أَحْجَارُ الزَّیْتِ بِالدِّمَائِ ۔ قُلْتُ: اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ : تَلْحَقُ بِمَنْ أَنْتَ مِنْہُ ۔ قُلْتُ : لاَ أَحْمِلُ مَعِیَ السِّلاَحَ۔ قَالَ : لاَ شَارَکْتَ الْقَوْمَ إِذًا وَلَکِنْ إِذَا خِفْتَ أَنْ یَبْہَرَکَ شُعَاعُ السَّیْفِ فَأَلْقِ ثَوْبَکَ عَلَی وَجْہِکَ یَبُؤْ بِإِثْمِکَ وَإِثْمِہِ ۔ [صحیح]
(١٦٧٩٨) ابو ذر کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو ذر ! اس وقت تو کیا کرے گا جب اتنی مشقت کردی جائے کہ لوگ اپنے گھر سے نماز کے لیے نہیں آسکیں گے ؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا : درگزر کرنا، پھر فرمایا : اے ابو ذر ! اس وقت کیا کرو گے جب اموات زیادہ ہوں گی اور گھر غلام کا ہوجائے گا ؟ میں نے کہا : اللہ اور رسول زیادہ جانتے ہیں۔ تو فرمایا : صبر کرنا۔ پھر فرمایا : اے ابو ذر ! اس وقت کیا کرو گے جب قتل زیادہ ہوجائیں گے یہاں تک کہ پتھر بھی خون میں ڈوب جائیں گے ؟ میں نے کہا : اللہ اور رسول زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا : جہاں تو ہو وہیں رہنا۔ میں نے کہا : اپنا اسلحہ بھی نہ اٹھاؤں۔ فرمایا کسی بھی قوم کے ساتھ شریک نہ ہونا اور جب تجھے اپنے قتل کا اندیشہ ہو تو اپنے منہ پر کپڑا ڈال لینا، تیرا اور اس کا گناہ اسی پر ہوگا۔