hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 16816

.

سنن البيهقي

16816
Sunan Al Bayhaqi
(۱۶۸۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ قَالَ : لَمَّا کَانَ زَمَنُ أُخْرِجَ ابْنُ زِیَادٍ وَثَبَ مَرْوَانُ بِالشَّامِ حَیْثُ وَثَبَ وَوَثَبَ ابْنُ الزُّبَیْرِ بِمَکَّۃَ وَوَثَبَ الَّذِینَ کَانُوا یُدْعَوْنَ الْقُرَّائَ بِالْبَصْرَۃِ قَالَ غُمَّ أَبِی غَمًّا شَدِیدًا فَقَالَ : انْطَلِقْ لاَ أَبَا لَکَ إِلَی ہَذَا الرَّجُلِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ قَالَ فَانْطَلَقْتُ مَعَہُ حَتَّی دَخَلْنَا عَلَیْہِ فِی دَارِہِ فَإِذَا ہُوَ قَاعِدٌ فِی ظِلِّ عُلْوٍ لَہُ مِنْ قَصَبٍ فِی یَوْمٍ حَارٍّ شَدِیدِ الْحَرِّ فَجَلَسْنَا إِلَیْہِ فَأَنْشَأَ أَبِی یَسْتَطْعِمُہُ قَالَ : یَا أَبَا بَرْزَۃَ أَلاَ تَرَی أَلاَ تَرَی قَالَ فَکَانَ أَوَّلَ شَیْئٍ تَکَلَّمَ بِہِ أَنْ قَالَ إِنِّی أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللَّہِ أَنِّی أَصْبَحْتُ سَاخِطًا عَلَی أَحْیَائِ قُرَیْشٍ إِنَّکُمْ مَعْشَرَ الْعُرَیْبِ کُنْتُمْ عَلَی الْحَالِ الَّتِی قَدْ عَلِمْتُمْ فِی جَاہِلِیَّتِکُمْ مِنَ الْقِلَّۃِ وَالذِّلَّۃِ وَالضَّلاَلَۃِ وَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ نَعَشَکُمْ بِالإِسْلاَمِ وَبِمُحَمَّدٍ -ﷺ- حَتَّی بَلَغَ بِکُمْ مَا تَرَوْنَ وَإِنَّ ہَذِہِ الدُّنْیَا الَّتِی أَفْسَدَتْ بَیْنَکُمْ إِنَّ ذَاکَ الَّذِی بِالشَّامِ یَعْنِی مَرْوَانَ وَاللَّہِ مَا یُقَاتِلُ إِلاَّ عَلَی الدُّنْیَا وَإِنَّ ذَاکَ الَّذِی بِمَکَّۃَ وَاللَّہِ إِنْ یُقَاتِلُ إِلاَّ عَلَی الدُّنْیَا وَإِنَّ الَّذِینَ حَوْلَکُمُ الَّذِینَ تَدْعُونَہُمْ قُرَّائَ کُمْ وَاللَّہِ إِنْ یُقَاتِلُونَ إِلاَّ عَلَی الدُّنْیَا قَالَ فَلَمَّا لَمْ یَدَعْ أَحَدًا قَالَ لَہُ أَبِی فَمَا تَأْمُرُنَا إِذًا قَالَ إِنِّی لاَ أَرَی خَیْرَ النَّاسِ الْیَوْمَ إِلاَّ عِصَابَۃً مُلْبِدَۃً وَقَالَ بِیَدِہِ خِمَاصَ الْبُطُونِ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ خِفَافَ الظُّہُورِ مِنْ دِمَائِہِمْ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَوْفٍ الأَعْرَابِیِّ۔ [صحیح]
(١٦٨١٠) ابو منہال کہتے ہیں : جب ابن زیاد کا زمانہ تھا تو مروان نے شام میں اور ابن زبیر نے مکہ میں اور وہ لوگ جنہیں قراء کہا جاتا تھا بصرہ میں قبضہ کرلیاتو میرے والد کو بہت دکھ ہوا اور کہنے لگے : اس شخص کے پاس چلو، وہ صحابی رسول ہیں۔ وہ ابو بردہ اسلمی کے پاس آگئے۔ آپ اپنے گھر میں گرمی کی وجہ سے ایک سائے میں بیٹھے تھے تو ہم بھی بیٹھ گئے تو میرے والد کہنے لگے : اے ابو بردہ ! کیا آپ نہیں دیکھ رہے ؟ تو آپ نے سب سے پہلے یہ بات کی کہ میں تو اللہ سے اجر چاہتا ہوں، میں تو قریشی سرداروں سے ناراض ہوں۔ اے عرب کے لوگو ! تم تو گمراہی و ضلالت اور ذلت کی زندگی گزار رہے تھے، اللہ نے ہمیں اسلام اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صورت بہترین نمونہ دیا۔ اس دنیا نے تمہیں برباد کردیا، مروان بھی، ابن زبیر بھی اور وہ بصرہ کے قراء بھی صرف دنیا کے لیے لڑ رہے ہیں تو میرے والد نے پوچھا : تو اب ہم کیا کریں ؟ فرمایا : میں تو اب سب سے بہتر اس جماعت کو سمجھتا ہوں جو اپنے گھروں سے چمٹے ہوئے ہیں اور صرف اپنی بھوک پیاس کا خیال ہے اور ان کی پیٹھیں خون کے بوجھ سے ہلکی ہیں۔