(۱۶۸۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ بْنِ الْمُسَیَّبِ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ وَعَامِرٍ الشَّعْبِیِّ قَالاَ قَالَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ لأَیْمَنَ بْنِ خُرَیْمٍ : أَلاَ تَخْرُجُ فَتُقَاتِلَ مَعَنَا فَقَالَ إِنَّ أَبِی وَعَمِّی شَہِدَا بَدْرًا وَإِنَّہُمَا عَہِدَا إِلَیَّ أَنْ لاَ أُقَاتِلَ أَحَدًا یَقُولُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَإِنْ أَنْتَ جِئْتَنِی بِبَرَائَ ۃٍ مِنَ النَّارِ قَاتَلْتُ مَعَکَ قَالَ : فَاخْرُجْ عَنَّا قَالَ فَخَرَجَ وَہُوَ یَقُولُ :
وَلَسْتُ بِقَاتِلٍ رَجُلاً یُصَلِّی
لَہُ سُلْطَانُہُ وَ عَلَیَّ إِثْمِی
أَأَقْتُلُ مُسْلِمًا فِی غَیْرِ جُرْمٍ
عَلَی سُلْطَانِ آخَرَ مِنْ قُرَیْشِ
مَعَاذَ اللَّہِ مِنْ جَہْلٍ وَطَیْشِ
فَلَیْسَ بِنَافِعِی مَا عِشْتُ عَیْشِی
[صحیح]
(١٦٨١١) قیس بن ابی حازم اور عامرشعبی کہتے ہیں کہ مروان نے ایمن بن خریم کو کہا کہ تو ہمارے ساتھ کیوں نہیں شامل ہو کر لڑتا ؟ تو جواب دیا : میرے والد اور چچا بدر میں شریک ہوئے، انھوں نے مجھ سے عہد لیا تھا کہ میں کبھی کلمہ پڑھنے والے کے خلاف نہیں لڑوں گا۔ اگر تو مجھے گارنٹی دے کہ تو مجھے جہنم سے بچا لے گا تو میں تیرے ساتھ مل کر لڑتا ہوں تو مروان نے کہا : چلا جا یہاں سے تو وہ یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکلے :
میں کسی نماز پڑھنے والے سے نہیں لڑ سکتا
اس کی تو بادشاہت ہے اور مجھے گناہ ہو
کیا میں کسی مسلمان کو بغیر جرم کے قتل کروں
ایسے سلطان پر کہ دوسرا بھی قریش سے ہو
اللہ کی پناہ ایسی جہالت اور جوش سے
میری پوری زندگی کو اس کا کوئی فائدہ نہیں