(۱۶۸۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِیٍّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : إِنَّ أُنَاسًا کَانُوا یُؤْخَذُونَ بِالْوَحْیِ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَإِنَّ الْوَحْیَ قَدِ انْقَطَعَ وَإِنَّمَا نَأْخُذُکُمُ الآنَ بِمَا ظَہَرَ مِنْ أَعْمَالِکُمْ فَمَنْ أَظْہَرَ لَنَا خَیْرًا أَمِنَّاہُ وَقَرَّبْنَاہُ وَلَیْسَ إِلَیْنَا مِنْ سَرِیرَتِہِ شَیْء ٌ اللَّہُ یُحَاسِبُہُ فِی سَرِیرَتِہِ وَمَنْ أَظْہَرَ لَنَا سُوئً ا لَمْ نَأْمَنْہُ وَلَمْ نُصَدِّقْہُ وَإِنْ قَالَ إِنَّ سَرِیرَتِی حَسَنَۃٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ عَنْ شُعَیْبٍ۔ [صحیح]
(١٦٨٥٠) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ عہد رسالت میں لوگ وحی کے ذریعے پکڑے جاتے تھے۔ اب وحی منقطع ہوگئی ہے۔ اب ہم ظاہری اعمال سے پکڑتے ہیں۔ جس کے ظاہری اعمال اچھے ہیں۔ ہم اس پر یقین کرلیتے ہیں اور اندرونی معاملہ اللہ کے ذمے ہے اور جس کے ظاہری اعمال برے ہیں۔ ہم اس پر یقین کرتے ہیں چاہے وہ کہے کہ میرا باطن اچھا ہے۔