hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 16901

.

سنن البيهقي

16901
Sunan Al Bayhaqi
(۱۶۸۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الأَصْبَہَانِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ حَیَّانَ عَنْ عَمَّارٍ الدُّہْنِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو الطُّفَیْلِ قَالَ : کُنْتُ فِی الْجَیْشِ الَّذِینَ بَعَثَہُمْ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی بَنِی نَاجِیَۃَ قَالَ فَانْتَہَیْنَا إِلَیْہِمْ فَوَجَدْنَاہُمْ عَلَی ثَلاَثِ فِرَقٍ قَالَ فَقَالَ أَمِیرُنَا لِفِرْقَۃٍ مِنْہُمْ : مَا أَنْتُمْ؟ قَالُوا : نَحْنُ قَوْمٌ کُنَّا نَصَارَی فَأَسْلَمْنَا فَثَبَتْنَا عَلَی إِسْلاَمِنَا۔ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِلثَّانِیَۃِ : مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا : نَحْنُ قَوْمٌ کُنَّا نَصَارَی یَعْنِی فَثَبَتْنَا عَلَی نَصْرَانِیَّتِنَا۔ قَالَ لِلثَّالِثَۃِ : مَنْ أَنْتُمْ قَالُوا نَحْنُ قَوْمٌ کُنَّا نَصَارَی فَأَسْلَمْنَا فَرَجَعْنَا فَلَمْ نَرَ دِینًا أَفْضَلَ مِنْ دِینِنَا فَتَنَصَّرْنَا۔ فَقَالَ لَہُمْ : أَسْلِمُوا فَأَبَوْا فَقَالَ لأَصْحَابِہِ : إِذَا مَسَحْتُ رَأْسِی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَشُدُّوا عَلَیْہِمْ فَفَعَلُوا فَقَتَلُوا الْمُقَاتِلَۃَ وَسَبُوا الذَّرَارِیَّ فَجِیئَ بِالذَّرَارِیِّ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ وَجَائَ مَسْقَلَۃُ بْنُ ہُبَیْرَۃَ فَاشْتَرَاہُمْ بِمِائَتَیْ أَلْفٍ فَجَائَ بِمَائَۃِ أَلْفٍ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَبَی أَنْ یَقْبَلَ فَانْطَلَقَ مَسْقَلَۃُ بِدَرَاہِمِہِ وَعَمَدَ مَسْقَلَۃُ إِلَیْہِمْ فَأَعْتَقَہُمْ وَلَحِقَ بِمُعَاوِیَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقِیلَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَلاَ تَأْخُذُ الذُّرِّیَّۃَ؟ فَقَالَ : لاَ۔ فَلَمْ یَعْرِضْ لَہُمْ۔ [صحیح] قَالَ الشَّافِعِیُّ : قَدْ قَاتَلَ مَنْ لَمْ یَزَلْ عَلَی النَّصْرَانِیَّۃِ وَمَنِ ارْتَدَّ فَقَدْ یَجُوزُ أَنْ یَکُونَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَبَی مِنْ بَنِی نَاجِیَۃَ مَنْ لَمْ یَکُنِ ارْتَدَّ وَقَدْ کَانَتِ الرِّدَّۃُ فِی عَہْدِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمْ یَبْلُغْنَا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَمَّسَ شَیْئًا مِنْ ذَلِکَ یَعْنِی الذَّرَارِیَّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(١٦٨٩٥) ابو طفیل کہتے ہیں کہ میں اس لشکر میں شامل تھا جو حضرت علی (رض) نے بنو ناجیہ کی طرف بھیجا تھا۔ کہتے ہیں : ہم ان کے پاس پہنچے تو ہم نے ان کو تین گروپ میں پایا تو ہمارے امیر نے ایک گروہ کو کہا : تم کون ہو ؟ کہنے لگے : ہم عیسائی تھے پھر ہم مسلمان ہوگئے اور اسی ثابت قدم ہیں۔ دوسرے گروہ سے پوچھا تو انھوں نے جواب دیا : ہم عیسائی تھے اور ابھی تک ہیں۔ تیسرے گروپ سے پوچھا تو انھوں نے جواب دیا : ہم عیسائی تھے، پھر مسلمان ہوگئے اور پھر دوبارہ عیسائیت جو کہ ہمارا افضل دین ہے کی طرف لوٹ آئے۔ تو ان کو کہا گیا کہ مسلمان ہو جاؤ۔ انھوں نے انکار کیا تو امیر نے اپنی فوج کو کہا : جب میں تین مرتبہ اپنے سر کو چھو لوں تو تم ان پر حملہ کردینا تو انھوں نے ایسا ہی کیا اور ان کو قتل کردیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا۔ وہ انھیں لے کر حضرت علی کے پاس آگئے تو مسقلہ بن ہبیرہ آئے اور ان سب کو دو لاکھ درہم کے بدلے خرید لیا اور ایک لاکھ دینے لگا تو حضرت علی نے انکار کردیا پھر پورے دو لاکھ ادا کر کے ان کو اس نے آزاد کردیا اور وہ معاویہ سے جا ملے۔ حضرت علی سے پوچھا گیا : آپ نے ان کی اولاد کو نہیں پکڑا تھا ؟ فرمایا : نہیں پھر وہ ان کے درپے نہ ہوئے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جو عیسائی تھے اور جو مرتد تھے ان سے قتال کیا اور ممکن ہے کہ علی (رض) نے بنو ناجیہ کی اس اولاد کو بھی قیدی بنایا جو مرتد نہیں تھی۔ ارتداد تو عہد صدیقی میں تھا لیکن ہم نہیں جانتے کہ انھوں نے ان سے کوئی چیز لی تھی۔