(۱۶۸۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلاَّبُ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَخَذَ الْمُشْرِکُونَ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ فَلَمْ یَتْرُکُوہُ حَتَّی سَبَّ النَّبِیَّ -ﷺ- وَذَکَرَ آلِہَتَہُمْ بِخَیْرٍ ثُمَّ تَرَکُوہُ فَلَمَّا أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَا وَرَائَ کَ؟ ۔ قَالَ : شَرٌّ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا تُرِکْتُ حَتَّی نِلْتُ مِنْکَ وَذَکَرْتُ آلِہَتَہُمْ بِخَیْرٍ۔ قَالَ : کَیْفَ تَجِدُ قَلْبَکَ؟ قَالَ : مُطْمَئِنًا بِالإِیمَانِ۔ قَالَ : إِنْ عَادُوا فَعُدْ۔ [ضعیف]
(١٦٨٩٦) عمار بن یاسر فرماتے ہیں کہ مجھے مشرکین نے پکڑ لیا اور انھوں نے اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برا اور ان کے الہٰوں کو اچھا نہکہہ دیا۔ جب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ نے پوچھا : کیا ہوا ؟ میں نے کہا : بہت برا میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں برا اور ان کے الٰہ کے بارے میں اچھا نہ کہہدیا تب تک انھوں نے مجھے نہیں چھوڑا۔ فرمایا تیرے دل کی کیا حالت تھی ؟ کہا : ایمان پر مطمئن تھا تو فرمایا : کوئی حرج نہیں۔ اگر وہ دوبارہ ایسا کریں تو تو بھی کردینا۔