(۱۶۸۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الْبَخْتَرِیِّ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْجُعْفِیُّ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَنْ أَظْہَرَ إِسْلاَمَہُ سَبْعَۃٌ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبُو بَکْرٍ وَعَمَّارٌ وَأُمُّہُ سُمَیَّۃُ وَصُہَیْبٌ وَبِلاَلٌ وَالْمِقْدَادُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَمَنَعَہُ اللَّہُ بِعَمِّہِ أَبِی طَالِبٍ وَأَمَّا أَبُو بَکْرٍ فَمَنَعَہُ اللَّہُ بِقَوْمِہِ وَأَمَّا سَائِرُہُمْ فَأَخَذَہُمُ الْمُشْرِکُونَ فَأَلْبَسُوہُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِیدِ وَأَوْثَقُوہُمْ فِی الشَّمْسِ فَمَا مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَقَدْ وَاتَاہُمْ عَلَی مَا أَرَادُوا غَیْرَ بِلاَلٍ فَإِنَّہُ ہَانَتْ عَلَیْہِ نَفْسُہُ فِی اللَّہِ وَہَانَ عَلَی قَوْمِہِ فَأَعْطُوہُ الْوِلْدَانَ فَجَعَلُوا یَطُوفُونَ بِہِ فِی شِعَابِ مَکَّۃَ وَجَعَلَ یَقُولُ : أَحَدٌ أَحَدٌ۔ [صحیح]
(١٦٨٩٧) عبداللہ کہتے ہیں کہ جب اسلام کا ظہور ہوا تو سب سے پہلے سات لوگوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابو بکر، عمار، سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد (رض) ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ نے ان کے چچا اور ابوبکر کو اللہ نے ان کی قوم کے ذریعے بچایا، لیکن باقیوں کو مشرکین نے پکڑ کر بہت اذیتیں دیں۔ انھیں لوہے کی بیڑیاں پہنا کر دھوپ میں پھینک دیا جاتا تو ان میں سے ہر ایک نے مشرکین کے مطالبات مان لیے۔ علاوہ بلال کے انھوں نے اپنے نفس اور قوم کو اللہ پر حقیر سمجھا۔ ان کو بچوں کے ہاتھوں میں دے دیا جاتا۔ وہ بچے ان کو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتے پھرتے اور یہ اپنی زبان سے صرف أحد أحد پکار رہے ہوتے۔