(۱۶۹۰۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ {وَاللاَّتِی یَأْتِینَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِسَائِکُمْ} إِلَی قَوْلِہِ {أَوْ یَجْعَلَ اللَّہُ لَہُنَّ سَبِیلاً} قَالَ : کَانَ أَوَّلَ حُدُودِ النِّسَائِ کُنَّ یُحْبَسْنَ فِی بُیُوتٍ لَہُنَّ حَتَّی نَزَلَتِ الآیَۃُ الَّتِی فِی النُّورِ {الزَّانِیَۃُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ} قَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ : کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : خُذُوا خُذُوا قَدْ جَعَلَ اللَّہُ لَہُنَّ سَبِیلاً الْبِکْرُ بِالْبِکْرِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَنَفْیُ سَنَۃٍ وَالثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَالرَّجْمُ بِالْحِجَارَۃِ ۔ [صحیح]
(١٦٩٠٨) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ شروع میں زانیہ کی سزا گھر میں قید کرنا تھی جو سو رہ نساء کی ١٥ نمبر آیت میں ذکر ہوئی ہے۔ پھر اللہ نے اسے { الزَّانِیَۃُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِأَۃَ جَلْدَۃٍ } [النور ٢] کے ساتھ منسوخ کردیا۔
حضرت عبادہ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ سے یہ لے لو کہ اللہ نے ان کے لیے راستہ بتادیا ہے کہ کنوارے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور شادی شدہ کے لیے سو کوڑے اور پتھروں سے رجم کرنا ہے۔