(۱۶۹۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُلاَثَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَنَّ خَالِدَ بْنَ اللَّجْلاَجِ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَاہُ اللَّجْلاَجَ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ کَانَ قَاعِدًا یَعْتَمِلُ فِی السُّوقِ فَمَرَّتِ امْرَأَۃٌ تَحْمِلُ صَبِیًّا فَثَارَ النَّاسُ وَثُرْتُ فِیمَنْ ثَارَ فَانْتَہَیْتُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- أَظُنُّہُ قَالَ فَقَالَ : مَنْ أَبُو ہَذَا مَعَکِ؟ ۔ قَالَ فَسَکَتَتْ قَالَ فَقَالَ شَابٌّ حِذَائَ ہَا أَنَا أَبُوہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : فَأَقْبَلَ عَلَیْہَا فَقَالَ : مَنْ أَبُو ہَذَا مَعَکِ؟ ۔
قَالَ فَسَکَتَتْ قَالَ فَقَالَ الْفَتَی : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہَا حَدِیثَۃُ السِّنِّ حَدِیثَۃُ عَہْدٍ بِخَزْیَۃٍ وَلَیْسَتْ مُکَلِّمَتَکَ فَأَنَا أَبُوہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ فَنَظَرَ إِلَی بَعْضِ مَنْ حَوْلَہُ کَأَنَّہُ یَسْأَلُہُمْ عَنْہُ فَقَالُوا مَا عَلِمْنَا إِلاَّ خَیْرًا أَوْ نَحْوَ ذَا فَقَالَ: أَحْصَنْتَ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ فَأَمَرَ بِہِ یُرْجَمُ قَالَ : فَخَرَجْنَا بِہِ فَحَفَرْنَا لَہُ حَتَّی أَمْکَنَّا ثُمَّ رَمَیْنَاہُ بِالْحِجَارَۃِ حَتَّی ہَدَأَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَی مَجَالِسِنَا قَالَ فَبَیْنَا نَحْنُ کَذَلِکَ إِذْ جَائَ شَیْخٌ یَسْأَلُ عَنِ الْمَرْجُومِ فَقُمْنَا إِلَیْہِ فَأَخَذْنَا بِتَلاَبِیبِہِ فَانْطَلَقْنَا بِہِ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقُلْنَا إِنْ ہَذَا جَائَ یَسْأَلُ عَنِ الْخَبِیثِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَہْ لَہُوَ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ ۔
قَالَ : فَانْصَرَفْنَا مَعَ الشَّیْخِ فَإِذَا ہُوَ أَبُوہُ فَأَتَیْنَا إِلَیْہِ فَأَعَنَّاہُ عَلَی غُسْلِہِ وَتَکْفِینِہِ وَدَفْنِہِ قَالَ وَلاَ أَدْرِی قَالَ وَالصَّلاَۃِ عَلَیْہِ أَمْ لاَ۔
وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- رَجَمَ امْرَأَۃً فَلَمَّا طَفِئَتْ أَخْرَجَہَا فَصَلَّی عَلَیْہَا۔ [ضعیف]
(١٦٩٥٤) لجلاج کہتے ہیں کہ میں بازار میں بیٹھا کام کررہا تھا کہ ایک عورت بچے کو اٹھائے ہوئے گزری تو لوگ اس پر جوش میں آگئے، میں بھی آگیا۔ میں اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے گیا تو اس سے پوچھا : یہ جو بچہ تیرے پاس ہے اس کا والد کون ہے ؟ وہ خاموش رہی تو ایک نوجوان وہیں سے کھڑا ہوا اور کہنے لگا : میں اس کا باپ ہوں یا رسول اللہ !۔ پھر اس عورت سے وہی پوچھا کہ اس کا باپ کون ہے ؟ تو وہ نوجوان کہنے لگا : یا رسول اللہ میں ہوں۔ یہ نو عمر ہے یہ آپ سے بات نہیں کرے گی تو آپ نے اپنے ارد گرد بیٹھے لوگوں کی طرف دیکھا، گویا آپ اس کے بارے میں ان سے پوچھ رہے ہوں تو لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے تو اسے بڑا بہترین پایا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : شادی شدہ ہو ؟ کہا : ہاں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے رجم کا حکم دیا تو ہم نے گڑھا کھود کر اسے رجم کردیا اور اپنی مجالس میں پھر آگئے تو ایک بوڑھا آدمی آیا اور اس رجم کیے ہوئے کے بارے میں پوچھنے لگا تو ہم اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے گئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ اس خبیث کے بارے میں پوچھ رہا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رک جاؤ، وہ اللہ کے ہاں کستوری سے زیادہ خوشبو دار ہے۔ کہتے ہیں : ہم اس شیخ کے ساتھ واپس آئے تو پتہ چلا کہ یہ اس کا باپ تھا تو ہم نے اس کے غسل، کفن، دفن میں اس کی مدد کی۔ کہتے ہیں : نماز کا مجھے یاد نہیں پڑھی تھی کہ نہیں۔