(۱۶۹۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ ہُوَ ابْنُ رُزَیْقٍ عَنْ أَبِی حَصِینٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : أُتِیَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِشُرَاحَۃَ الْہَمْدَانِیَّۃِ قَدْ فَجَرَتْ فَرَدَّہَا حَتَّی وَلَدَتْ فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَ ائْتُونِی بِأَقْرَبِ النِّسَائِ مِنْہَا فَأَعْطَاہَا وَلَدَہَا ثُمَّ جَلَدَہَا وَرَجَمَہَا ثُمَّ قَالَ جَلَدْتُہَا بِکِتَابِ اللَّہِ وَرَجَمْتُہَا بِالسُّنَّۃِ ثُمَّ قَالَ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ نَعَی عَلَیْہَا وَلَدُہَا أَوْ کَانَ اعْتِرَافٌ فَالإِمَامُ أَوَّلُ مَنْ یَرْجُمُ ثُمَّ النَّاسُ فَإِنْ نَعَاہَا الشُّہُودُ فَالشُّہُودُ أَوَّلُ مَنْ یَرْجُمُ ثُمَّ الإِمَامُ ثُمَّ النَّاسُ۔ [حسن لغیرہ]
(١٦٩٦٢) شعبی کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس شراحہ ہمدانیہ کو لایا گیا، جس سے زنا سرزد ہوگیا تھا، پھر اسے لوٹا دیا کہ وہ وضع حمل کر دے۔ جب بچہ پیدا ہوگیا تو فرمایا : اس کی سب سے قریبی عورت رشتہ دار کو بلاؤ وہ بلائی گئی، پھربچہ اسے دے دیا گیا تو آپ نے پہلے اسے کوڑے مارے، پھر رجم کیا اور کہا کہ میں نے کتاب اللہ کی وجہ سے کوڑے مارے ہیں اور سنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مطابق رجم کیا ہے۔ پھر فرمایا : جس عورت کا بھی اعتراف یا حمل سے زنا ظاہر ہوجائے تو سب سے پہلے امام اسے رجم کرے، پھر لوگ، اگر اس کا زنا گواہی سے ظاہر ہوا ہے تو سب سے پہلے گواہ پھر امام اور پھر لوگ رجم کریں۔