(۱۶۹۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ صَفْوَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی الدُّنْیَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ یَزِیدَ عَنْ مُوسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ قَالَ : کَانَ الْمُخَنَّثُونَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثَلاَثَۃً مَاتِعٌ وَہِدْمٌ وَہِیتٌ وَکَانَ مَاتِعٌ لِفَاخِتَۃَ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ عَائِذٍ خَالَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ یَغْشَی بُیُوتَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَیَدْخُلُ عَلَیْہِنَّ حَتَّی إِذَا حَاصَرَ الطَّائِفَ سَمِعَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یَقُولُ لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ : إِنِ افْتُتِحَتِ الطَّائِفُ غَدًا فَلاَ تَنْفَلِتَنَّ مِنْکَ بَادِیَۃُ بِنْتُ غَیْلاَنَ فَإِنَّہَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ أَرَی ہَذَا الْخَبِیثَ یَفْطُنُ لِہَذَا لاَ یَدْخُلُ عَلَیْکُنَّ بَعْدَ ہَذَا ۔ لِنِسَائِہِ قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَافِلاً حَتَّی إِذَا کَانَ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ قَالَ : لاَ یَدْخُلَنَّ الْمَدِینَۃَ ۔ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمَدِینَۃَ فَکُلِّمَ فِیہِ وَقِیلَ لَہُ إِنَّہُ مِسْکِینٌ وَلاَ بُدَّ لَہُ مِنْ شَیْئٍ فَجَعَلَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمًا فِی کُلِّ سَبْتٍ یَدْخُلُ فَیَسْأَلُ ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی مَنْزِلِہ فَلَمْ یَزَلْ کَذَلِکَ عَہْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبِی بَکْرٍ وَعَلَی عَہْدِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَنَفَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَاحِبَیْہِ مَعَہُ ہِدْمٌ وَالآخَرُ ہِیتٌ۔[ضعیف]
(١٦٩٨٣) موسیٰ بن عبدالرحمن بن عیاش کہتے ہیں کہ عہد رسالت میں تین مخنث تھے : ماتع، ہدم، ہیت۔ جو ماتع تھا یہ فاختہ بنت عمرو جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خالہ تھیں ان کے پاس تھا یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں بھی آتا جاتا تھا جب طائف کا موقع آیا تو یہ خالد بن ولید کو کہنے لگا کہ اگر اللہ تمہیں طائف پر غلبہ دے دے تو غیلان کی بیٹی کو پکڑ لینا، وہ آتی ہے چار کے ساتھ اور جاتی ہے آٹھ کے ساتھ۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سنا تو فرمایا : مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ خبیث اس طرح کی باتیں بھی دیکھتے ہیں۔ آج کے بعد یہ گھروں میں نہ آئیں۔ پھر جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آئے، ذی الحلیفہ نامی جگہ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا : یہ مدینہ میں داخل نہ ہوں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں داخل ہوگئے۔ آپ کو کہا گیا : یہ مسکین ہے، اسے آنے دیں اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہفتے میں ایک دن ان کے لیے اجازت دے دی آئیں اور اپنی ضرورت کی چیزیں لیں اور چلے جائیں۔ عہد صدیقی اور عمر میں بھی اسی طرح رہا اور اس کے ساتھ ہدم اور ہیت کو بھی جلا وطن کردیا گیا تھا۔