hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 1700

.

سنن البيهقي

1700
Sunan Al Bayhaqi
(۱۷۰۱) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی أُسَامَۃُ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ أَخْبَرَہُ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَانَ قَاعِداً عَلَی الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ الْعَصْرَ شَیْئًا فَقَالَ لَہُ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ: أَمَا إِنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا -ﷺ- بِوَقْتِ الصَّلاَۃِ۔ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ۔ فَقَالَ عُرْوَۃُ سَمِعْتُ بَشِیرَ بْنَ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((نَزَلَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَأَخْبَرَنِی بِوَقْتِ الصَّلاَۃِ ، فَصَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ ، ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَہُ))۔ یَحْسُبُ بِأَصَابِعِہِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، وَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی الظُّہْرَ حِینَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَرُبَّمَا أَخَّرَہَا حِینَ یَشْتَدَّ الْحَرُّ ، وَرَأَیْتُہُ یُصَلِّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ بَیْضَائُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَہَا الصُّفْرَۃُ ، فَیَنْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلاَۃِ فَیَأْتِی ذا الْحُلَیْفَۃِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، وَیُصَلِّی الْمَغْرِبَ حِینَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ ، وَیُصَلِّی الْعِشَائَ حِینَ یَسْوَدُّ الأُفُقُ ، وَرُبَّمَا أَخَّرَہَا حَتَّی یَجْتَمِعَ النَّاسُ ، وَصَلَّی الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ، ثُمَّ صَلَّی مَرَّۃً أُخْرَی فَأَسْفَرَ بِہَا ، ثُمَّ کَانَتْ صَلاَتُہُ بَعْدَ ذَلِکَ بِغَلَسٍ حَتَّی مَاتَ ، لَمْ یَعُدْ إِلَی أَنْ یُسْفِرَ۔ وَتَفْسِیرُ کَیْفِیَّۃِ صَلاَۃِ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ بِالنَّبِیِّ -ﷺ- فِی حَدِیثِ أَبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ وَہُوَ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۳۹۴]
(١٧٠١) سیدنا عمر بن عبد العزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے عصر کو کچھ مؤخر کردیا، ان سے عروہ بن زبیر (رض) نے کہا : جبرائیل (علیہ السلام) نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے وقت کی خبر دی ہے، ان سے سیدنا عمر (رض) نے کہا : غور کر تو کیا کہہ رہا ہے ؟ عروہ نے کہا : میں نے بشیر بن أبی مسعود انصاری سے سنا، وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انھوں نے مجھے نماز کے وقت کی خبر دی، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ اپنی انگلیوں پر پانچ نمازیں شمار کرتے تھے اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز تب پڑھتے تھے جب سورج اڈھل جاتا اور بعض اوقات اس کو مؤخر کردیتے جس وقت گرمی سخت ہوجاتی اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج زردی کے داخل ہونے سے پہلے بلند سفید تھا ‘ آدمی نماز سے پلٹتا تو سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا جس وقت کنارہ سیاہ ہوجاتا ہے اور بعض اوقات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ لوگ جمع ہوجائے اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھتے، پھر ایک مرتبہ نماز روشنی میں پڑھی، پھر اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز اندھیرے میں ہوتی تھی، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوبارہ نہیں لوٹے کہ اس کو روشن کرتے۔