(۱۷۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَکِیمِ بْنِ حَکِیمِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَمَّنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ مَرَّتَیْنِ عِنْدَ الْبَیْتِ ، فَصَلَّی بِیَ الظُّہْرَ حِینَ مَالَتِ الشَّمْسُ فَکَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاکِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْمَغْرِبَ حِینَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعِشَائَ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْفَجْرَ حِینَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَی الصَّائِمِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الظُّہْرَ مِنَ الْغَدِ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ قَدْرَ ظِلِّہِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَیْہِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْمَغْرِبَ حِینَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعِشَائَ لِثُلُثِ اللَّیْلِ الأَوَّلِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ ، وَالْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ ہَذَا وَقْتُ الأَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِکَ ، وَالْوَقْتُ فِیمَا بَیْنَ ہَذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ))۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۹۳]
(١٧٠٢) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جبرائیل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کے پاس دو دفعہ میری امامت کرائی، مجھ کو ظہر کی نماز پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور تسمہ کے برابر ہوگیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی یہاں تک کہ ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا، پھر مجھ کو مغرب کی نماز پڑھائی، جس وقت روزے داروں نے روزہ افطار کرلیا۔ پھر مجھ کو عشاء کی نماز پڑھائی، جب سرخی غروب ہوگئی پھر مجھ کو صبح کی نماز پڑھائی جس وقت روزے دار پر کھانا ، پینا حرام ہوگیا ‘ پھر مجھ کو اگلے دن ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کے سائے کے برابر ہوگیا۔ پھر مجھ کو عصر کے نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی دو مثل ہوگیا۔ پھر مجھ کو مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت روزے داروں نے افطار کرلیا۔ پھر مجھ کو عشا کی نماز پہلی رات کے تہائی حصے میں پڑھائی پھر مجھ کو فجر کی نماز روشنی میں پڑھائی اور میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا : اے محمد ! یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے انبیاء کا وقت ہے اور ان دو وقتوں کے درمیان (آپ کا) وقت ہے۔