(۱۶۹۹۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ یُقَالُ لَہُ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنِّی أَصَبْتُ فَاحِشَۃً فَأَقِمْہُ عَلَیَّ فَرَدَّہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِرَارًا ثُمَّ سَأَلَ قَوْمَہُ فَقَالُوا : مَا نَعْلَمُ بِہِ بَأْسًا إِلاَّ أَنَّہُ أَصَابَ شَیْئًا یَرَی أَنْ لاَ یُخْرِجَہُ مِنْہُ إِلاَّ أَنْ یُقَامَ فِیہِ الْحَدُّ۔ قَالَ : فَرَجَعَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَمَرَنَا أَنْ نَرْجُمَہُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا إِلَی بَقِیعِ الْغَرْقَدِ قَالَ فَمَا أَوْثَقْنَاہُ وَلاَ حَفَرْنَا لَہُ قَالَ فَرَمَیْنَاہُ بِالْعِظَامِ وَالْمَدَرِ وَالْخَزَفِ قَالَ فَاشْتَدَّ وَاشْتَدَدْنَا خَلْفَہُ حَتَّی أَتَی عُرْضَ الْحَرَّۃِ فَانْتَصَبَ لَنَا فَرَمَیْنَاہُ بِجَلاَمِیدِ الْحَرَّۃِ یَعْنِی الْحِجَارَۃَ حَتَّی سَکَتَ قَالَ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَطِیبًا مِنَ الْعِشَائِ قَالَ : أَکُلَّمَا انْطَلَقْنَا غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ تَخَلَّفَ رَجُلٌ فِی عِیَالِنَا لَہُ نَبِیبٌ کَنَبِیبِ التَّیْسِ عَلَی أَنْ لاَ أُوتَی بِرَجُلٍ فَعَلَ ذَلِکَ إِلاَّ نَکَّلْتُ بِہِ ۔ قَالَ فَمَا اسْتَغْفَرَ لَہُ وَلاَ سَبَّہُ۔
لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ الْمُثَنَّی رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔
وَسُؤَالُہُ قَوْمَہُ بَعْدَ اعْتِرَافِہِ مِرَارًا دَلِیلٌ عَلَی أَنَّہُ کَانَ یَشُکُّ فِی عَقْلِہِ۔ [صحیح]
(١٦٩٩٧) ابو سعید کہتے ہیں کہ اسلم قبیلے کا ایک شخص جس کا نام ماعز تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ اس نے زنا کا اعتراف کیا تو آپ نے اس سے اعراض کرلیا۔ جب اس نے بار بار اس کا اصرار کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی قوم سے پوچھا کہ ماعز پاگل تو نہیں ؟ انھوں نے کہا : ہم نے تو اس میں کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے رجم کا حکم دے دیا۔ ہم اسے بقیع الغر قد کی طرف لے آئے ہم نے نہ اسے باندھا نہ زمین میں گاڑا اور پتھروں سے اسے مارا تو وہ تکلیف کی وجہ سے بھاگا۔ ہم نے اسے حرہ کے مقام پر جا کر پکڑ لیا اور اسے وہاں مارا تو وہ مرگیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شام کو عشاء کے وقت خطبہ دیا تو فرمایا : ہم کسی بھی غزوے میں جاتے ہیں تو ایک مرد کو نائب بنا جاتے ہیں اس وجہ سے کہ اگر کوئی ایسا کرے تو وہ اسے عبرت کا نشان بنا دے۔ آپ نے نہ ماعز کو برا کہا اور نہ استغفار کی۔