hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 17004

.

سنن البيهقي

17004
Sunan Al Bayhaqi
(۱۶۹۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَہُوَ أَبُو الشَّیْخِ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی عَاصِمٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنِ ابْنِ عَمٍّ لأَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ مَاعِزًا جَائَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی قَدْ زَنَیْتُ فَأَعْرَضَ عَنْہُ حَتَّی قَالَہَا أَرْبَعًا فَلَمَّا کَانَ فِی الْخَامِسَۃِ قَالَ : زَنَیْتَ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ : وَتَدْرِی مَا الزِّنَا؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ أَتَیْتُ مِنْہَا حَرَامًا مَا یَأْتِی الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِہِ حَلاَلاً۔ قَالَ : مَا تُرِیدُ إِلَی ہَذَا الْقَوْلِ؟ ۔ قَالَ : أُرِیدُ أَنْ تُطَہِّرَنِی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَدْخَلْتَ ذَلِکَ مِنْہُ فِی ذَلِکَ مِنْہَا کَمَا یَغِیبُ الْمِیلُ فِی الْمُکْحُلَۃِ وَالْعَصَا فِی الشَّیْئِ ۔أَوْ قَالَ : الرِّشَائُ فِی الْبِئْرِ ۔ قَالَ : نَعَمْ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَأَمَرَ بِرَجْمِہِ فَرُجِمَ فَسَمِعَ النَّبِیُّ -ﷺ- رَجُلَیْنِ یَقُولُ أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہِ أَلَمْ تَرَ إِلَی ہَذَا الَّذِی سَتَرَ اللَّہُ عَلَیْہِ فَلَمْ تَدَعْہُ نَفْسُہُ حَتَّی رُجِمَ رَجْمَ الْکَلْبِ فَسَارَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَیْئًا ثُمَّ مَرَّ بِجِیفَۃِ حِمَارٍ فَقَالَ : أَیْنَ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ قُومَا فَانْزِلاَ فَکُلاَ مِنْ جِیفَۃِ ہَذَا الْحِمَارِ۔ قَالاَ: غَفَرَ اللَّہُ لَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَہَلْ یُؤْکَلُ مِثْلُ ہَذَا؟ قَالَ: فَمَا نِلْتُمَا مِنْ أَخِیکُمَا آنِفًا شَرٌّ مِنْ ہَذَا وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّہُ الآنَ لَفِی أَنْہَارِ الْجَنَّۃِ یَتَقَمَّسُ فِیہَا۔ [ضعیف]
(١٦٩٩٨) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ماعز نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پانچ مرتبہ زنا کا اعتراف کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : جانتے ہو زنا کیا ہوتا ہے ؟ کہا : ہاں کہ جس طرح آدمی بیوی کے پاس حلال طریقے سے آتا ہے تو غیر بیوی کے ساتھ ویسا حرام طریقے سے کرے۔ تو فرمایا : کیا چاہتے ہو ؟ کہا : مجھے پاک کردیجیے تو آپ نے پوچھا کہ کیا تو نے ایسے کیا تھا تھا جیسے سرمچو سرمہ دانی میں یا لاٹھی کسی چیز میں داخل کی جائے یا ڈول کنویں میں ؟ کہا : ہاں یا رسول اللہ ! تو آپ نے اس کے رجم کا حکم دے دیا۔ اسے رجم کردیا گیا تو دو شخص باتیں کر رہے تھے کہ اللہ نے اس پر پردہ ڈالا تھا، لیکن اس نے خود ظاہر کر کے کتے کی طرح رجم ہوگیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات سن لی۔ پھر چلے اور ایک گدھے کی سڑی ہوئی لاش کے پاس سے گزرے تو آپ نے پوچھا : فلاں فلاں کہاں ہیں ؟ وہ دونوں کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا : اس گدھے کی اس سڑی ہوئی لاش سے کھاؤ۔ وہ کہنے لگے : اللہ آپ کو معاف فرمائے، اس سے کون کھائے گا ؟ تو آپ نے فرمایا : اپنے بھائی کے بارے میں تم نے جو بات کہی تھی وہ اس کے کھانے سے بھی زیادہ بری تھی اور اللہ کی قسم ! میں نے ابھی دیکھا کہ ماعز جنت کی نہر میں غوطہ لگا رہا ہے۔