(۱۶۹۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عن یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ : إِنَّ رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ جَائَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : إِنَّ الأَخِرَ زَنَی۔فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ : ہَلْ ذَکَرْتَ ہَذَا لأَحَدٍ غَیْرِی؟ فَقَالَ : لاَ۔ قَالَ أَبُو بَکْرٍ : فَتُبْ إِلَی اللَّہِ وَاسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّہِ فَإِنَّ اللَّہَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ۔ فَلَمْ تُقِرَّہُ نَفْسُہُ حَتَّی أَتَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ کَمَا قَالَ لأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ کَمَا قَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَلَمْ تُقِرَّہُ نَفْسُہُ حَتَّی أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ الأَخِرَ زَنَی۔ قَالَ سَعِیدٌ فَأَعْرَضَ عَنْہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِرَارًا کُلَّ ذَلِکَ یُعْرِضُ عَنْہُ حَتَّی إِذَا أَکْثَرَ عَلَیْہِ بَعَثَ إِلَی أَہْلِہِ فَقَالَ : أَیَشْتَکِی بِہِ جُنَّۃٌ؟ ۔ فَقَالُوا : وَاللَّہِ إِنَّہُ لَصَحِیحٌ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَبِکْرٌ أَمْ ثَیِّبٌ؟ ۔ فَقَالُوا : بَلْ ثَیِّبٌ۔ فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَرُجِمَ۔ [ضعیف]
(٩٩ ١٦٩) ابن مسیب کہتے ہیں کہ اسلم قبیلے کا ایک شخص ابوبکر کے پاس آیا اور زنا کا اعتراف کیا تو ابوبکر (رض) نے پوچھا : میرے علاوہ کسی اور کو بھی بتایا ہے ؟ کہا : نہیں تو فرمایا : پھر توبہ کرلو اور چھپا کے رکھو لیکن اس سے نہ رہا گیا۔ حضرت عمر کو بتایا تو حضرت عمر نے بھی ابوبکر والا جواب دیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا، آپ نے اس سے اعراض کرلیا لیکن اس کے بار بار اصرار کرنے کے بعد آپ نے اس کے گھر سے معلوم کروایا کہ کیا یہ مجنوں تو نہیں ؟ انھوں نے کہا : نہیں یہ تو بالکل صحیح ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ؟ تو کہا : شادی شدہ تو آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا۔