(۱۷۰۷۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ سَلاَّمِ بْنِ مِسْکِینٍ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنِ الرَّجُلِ یَقَعُ بِجَارِیَۃِ امْرَأَتِہِ قَالَ حَدَّثَنِی قَبِیصَۃُ بْنُ حُرَیْثٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ مُحَبِّقٍ أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- کَانَ لاَ یَزَالُ یُسَافِرُ وَیَغْزُو وَأَنَّ امْرَأَتَہُ بَعَثَتْ مَعَہُ جَارِیَۃً لَہَا فَقَالَتْ : تَغْسِلُ رَأْسَکَ وَتَخْدُمُکَ وَتَحْفَظُ رَحْلَکَ وَلَمْ تَجْعَلْہَا لَہُ وَإِنَّہُ طَالَ سَفَرُہُ فِی وَجْہِہِ ذَلِکَ فَوَقَعَ بِالْجَارِیَۃِ فَلَمَّا قَفَلَ أَخْبَرَتِ الْجَارِیَۃُ مَوْلاَتَہَا بِذَلِکَ فَغَارَتْ غَیْرَۃً شَدِیدَۃً وَغَضِبَتْ فَأَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَخْبَرَتْہُ بِالَّذِی صَنَعَ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنْ کَانَ اسْتَکْرَہَہَا فَہِیَ عَتِیقَۃٌ وَعَلَیْہِ مِثْلُہَا وَإِنْ کَانَ أَتَاہَا عَنْ طِیبَۃِ نَفْسٍ مِنْہَا وَرِضًا فَہِیَ لَہُ وَعَلَیْہِ مِثْلُ ثَمَنِہَا لَکِ ۔ وَلَمْ یُقِمْ فِیہِ حَدًّا۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ فِیمَا بَلَغَنِی عَنْہُ لِحَدِیثِ قَبِیصَۃَ ہَذَا أَصَحُّ یَعْنِی مِنْ رِوَایَۃِ مَنْ رَوَاہُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَلَمَۃَ۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ : وَلاَ یَقُولُ بِہَذَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِنَا۔
وَقَالَ الْبُخَارِیُّ فِی التَّارِیخِ : قَبِیصَۃُ بْنُ حُرَیْثٍ الأَنْصَارِیُّ سَمِعَ سَلَمَۃَ بْنَ الْمُحَبِّقِ فِی حَدِیثِہِ نَظَرٌ۔ [ضعیف]
(١٧٠٧٥) سلمہ بن محبق کہتے ہیں کہ ایک صحابی رسول اکثر سفر میں رہتا، غزوات میں شریک ہوتا تو اس کی بیوی نے اس کے ساتھ اپنی لونڈی بھیج دی کہ اس کے سارے کام کرے، لیکن وہ اپنے خاوند کو نہ دی۔ سفر لمبا ہوگیا تو وہ لونڈی پر واقع ہوگیا۔ جب واپس لوٹے تو عورت کو لونڈی نے بتادیا۔ اسے بڑی غیرت آئی اور غصہ بھی۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئی تو آپ نے فرمایا : اگر اس نے زبردستی کیا ہے تو وہ آزاد ہے اور خاوند کے ذمے اس جیسی اور لونڈی ہے۔ اگر وہ رضا مند تھی تو وہ خاوند کی ہے اور وہ اس کی قیمت ادا کرے گا، لیکن آپ نے حد قائم نہیں کی۔