(۱۷۰۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : وَہَبَتِ امْرَأَۃٌ لِزَوْجِہَا جَارِیَۃً فَخَرَجَ بِہَا فِی سَفَرٍ فَوَقَعَ عَلَیْہَا فَحَبِلَتْ فَبَلَغَ امْرَأَتَہُ حَبَلُہَا فَأَتَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَتْ : إِنِّی بَعَثْتُ مَعَ زَوْجِی بِجَارِیَۃٍ تَخْدُمُہُ وَتَقُومُ عَلَیْہِ فَبَلَغَنِی أَنَّہَا قَدْ حَبِلَتْ۔
قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ الرَّجُلُ أَرْسَلَ إِلَیْہِ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَا فَعَلَتِ الْجَارِیَۃُ فُلاَنَۃُ أَأَحْبَلْتَہَا؟ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ آبْتَعْتَہَا؟ قَالَ : لاَ۔
قَالَ : فَوَہَبَتْہَا لَکَ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ : فَلَکَ بَیِّنَۃٌ عَلَی ذَلِکَ؟ فَقَالَ : لاَ۔ فَقَالَ : لَتَأْتِیَنِّی بِالْبَیِّنَۃِ أَوْ لأَرْجُمَنَّکَ۔ فَقِیلَ لِلْمَرْأَۃِ : إِنَّ زَوْجَکِ یُرْجَمُ۔ فَأَتَتْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَقَرَّتْ أَنَّہَا وَہَبَتْہَا لَہُ فَجَلَدَہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ الْحَدَّ أُرَاہُ حَدَّ الْقَذْفِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فَإِنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الْجَہَالَۃِ وَقَالَ کُنْتُ أَرَی أَنَّہَا حَلاَلٌ لِی فَإِنَّا نَدْرَأُ عَنْہُ الْحَدَّ وَعَزَّرْنَاہُ۔ [ضعیف]
(١٧٠٨١) نافع کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند کو ایک اپنی لونڈی ہبہ کردی۔ وہ اسے سفر میں ساتھ لے گیا اور اس پر واقع ہوا تو وہ حاملہ ہوگئی تو عورت کو اس کے حاملہ ہونے کا پتہ چلا تو حضرت عمر کے پاس آگئی اور کہا کہ میں نے خدمت کے لیے اپنے خاوند کو اپنی لونڈی دی تو مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ اس نے حاملہ کردی ہے۔ جب وہ آدمی واپس لوٹا تو حضرت عمر نے بلا لیا اور پوچھا کہ فلاں لونڈی کے ساتھ تم نے کیا کیا، حاملہ کردیا ؟ کہا : ہاں، پوچھا : کیا اسے خریدا تھا ؟ کہا : نہیں، پوچھا : ہبہ کی گئی تھی ؟ کہا : ہاں پوچھا : کوئی ثبوت ہے ؟ کہا : ثبوت تو نہیں ہے تو فرمایا : ثبوت لاؤ ورنہ میں تجھے رجم کروں گا۔ اس عورت کو کہا گیا کہ تیرے شوہر کو رجم کیا جائے گا تو وہ عورت حضرت عمر کے پاس آئی اور اقرار کیا کہ اس نے ہبہ کیا تھا۔ حضرت عمر نے اس کو حد قذف لگائی۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر اس نے جہالت میں ایسا کیا ہے حلال سمجھتے ہوئے تو ہم اس سے حد ساقط کردیں گے لیکن تعزیراً سزا دیں گے۔