(۱۷۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی حَکِیمُ بْنُ حَکِیمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَمَّنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ عِنْدَ الْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ ، فَصَلَّی بِیَ الظُّہْرَ حِینَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاکِ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ))۔
وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ : ((ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْغَدَ الظُّہْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، ثُمَّ صَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَیْہِ))۔
وَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِی آخِرِہِ : ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ إِنَّ ہَذَا وَقْتُ الأَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِکَ ، وَالْوَقْتُ فِیمَا بَیْنَ ہَذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔
وَکَانَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَذْہَبُ إِلَی أَنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ یَنْفَصِلُ مِنْ آخِرِ وَقْتِ الظُّہْرِ ، وَإِنَّ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- صَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، یَعْنِی حِینَ تَمَّ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ جَاوَزَ ذَلِکَ بِأَقَلَّ مِمَّا یُجَاوِزُہُ ، قَالَ وَبَلَغَنِی عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعْنَی مَا وَصَفْتُ وَأَحْسِبُہُ ذَکَرَہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَکَأَنَّہُ أَرَادَ مَا۔ [حسن]
(١٧١٠) (الف) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کے پاس میری دو مرتبہ امامت کرائی مجھ کو ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا اور تسمے کے برابر ہوگیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا۔
(ب) اور حدیث بیان کی اس میں فرمایا : پھر مجھ کو کل ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوگیا۔
(ج) ایک اور حدیث بیان کی، اس کے آخر میں ہے کہ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا : اے محمد ! یہ آپ سے پہلے انبیاء کا وقت ہے اور وقت ان دونوں کے درمیان ہے۔
(د) امام شافعی (رح) کا مذہب یہ ہے کہ عصر کا اول وقت ظہر کے وقت سے آخری وقت سے الگ ہوتا ہے اور ابن عباس (رض) کا قول کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہوگیا۔ یعنی جب ہر چیز کا سایہ مکمل ہوگیا۔ اور مجھے یہ بات پہنچی کہ ابن عباس (رض) کے شاگردوں سے اس کے ہم معنی روایت ہے جو میرا مؤقف ہے اور میرا گمان ہے کہ انھوں نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے۔