(۱۷۱۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ : أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِی بَکْرٍ کَتَبَ إِلَی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَسْأَلُہُ عَنْ مُسْلِمٍ زَنَی بِنَصْرَانِیَّۃٍ فَکَتَبَ إِلَیْہِ : أَنْ أَقِمِ الْحَدَّ عَلَی الْمُسْلِمِ وَادْفَعِ النَّصْرَانِیَّۃَ إِلَی أَہْلِ دِینِہَا۔ [حسن]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَإِنْ کَانَ ہَذَا ثَابِتًا عِنْدَکَ فَہُوَ یَدُلُّکَ عَلَی أَنَّ الإِمَامَ مُخَیَّرٌ فِی أَنْ یَحْکُمَ بَیْنَہُمْ أَوْ یَتْرُکَ الْحُکْمَ عَلَیْہِمْ فَعُورِضَ بِحَدِیثِ بَجَالَۃَ۔
(١٧١٢١) حضرت محمد بن ابی بکر نے حضرت علی کو لکھا کہ ایک مسلمان نے ایک عیسائی عورت سے زنا کرلیا تو آپ نے اسے جواب دیا کہ مسلمان پر حد قائم کر دو اور عورت کو اس کے دین والوں کی طرف لوٹا دو ۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر یہ ثابت ہے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فیصلہ کرنے یا نہ کرنے میں اسے اختیار ہے۔