hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 17130

.

سنن البيهقي

17130
Sunan Al Bayhaqi
(۱۷۱۲۴) وَإِنَّمَا عَنِیَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ عَنْ عَوْفٍ الأَعْرَابِیِّ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ إِلَی عَدِیِّ بْنِ أَرْطَاۃَ أَمَّا بَعْدُ فَسَلِ الْحَسَنَ بْنَ أَبِی الْحَسَنِ مَا مَنَعَ مَنْ قَبْلَنَا مِنَ الأَئِمَّۃِ أَنْ یَحُولُوا بَیْنَ الْمَجُوسِ وَبَیْنَ مَا یَجْمَعُونَ مِنَ النِّسَائِ اللاَّتِی لاَ یَجْمَعُہُنَّ أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ الْمِلَلِ غَیْرُہُمْ قَالَ فَسَأَلَ عَدِیٌّ الْحَسَنَ فَأَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ قَبِلَ مِنْ مَجُوسِ أَہْلِ الْبَحْرَیْنِ الْجِزْیَۃَ وَأَقَرَّہُمْ عَلَی مَجُوسِیَّتِہِمْ وَعَامِلُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی الْبَحْرَیْنِ الْعَلاَئُ بْنُ الْحَضْرَمِیِّ وَأَقَرَّہُمْ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَقَرَّہُمْ عُمَرُ بَعْدَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَأَقَرَّہُمْ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [ضعیف] قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَہَذَا الأَثَرُ إِنَّمَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُمْ یُتْرَکُونَ وَأَمْرَہُمْ فِیمَا بَیْنَہُمْ مَا لَمْ یَتَحَاکَمُوا إِلَیْنَا فَإِذَا تَرَافَعُوا إِلَیْنَا فِی حُکْمٍ حَکَمْنَا بَیْنَہُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ آیَۃَ التَّخْیِیرِ فِی الْحُکْمِ صَارَتْ مَنْسُوخَۃً۔
(١٧١٢٤) عوفدیہاتی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز (رح) نے عدی بن ارطاہ کو لکھا کہ حسن بن ابوحسن سے پوچھو کہ ہم سے پہلے جو ائمہ تھے ان کو کس بات نے روکا تھا کہ وہ مجوسیوں میں ان کی ذی رحم عورتوں سے شادی کی صورت میں جدائی کروائیں ؟ تو عدی نے حسن سے پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بحرین کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا اور ان کو ان کے مذہب پر قائم رہنے دیا اور بحرین پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عامل علاء بن حضرمی (رض) تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ان کو ابو بکر، عمر اور عثمان (رض) نے بھی اسی طرح رکھا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ یہ اس بات پر دال ہے کہ جب وہ اپنا فیصلہ ہمارے پاس لائیں تو پھر ہم فیصلہ قرآن کے مطابق کریں اور آیت تخییر کے منسوخیت کے بارے میں ابن عباس سے اثر منقول ہے۔