hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 17129

.

سنن البيهقي

17129
Sunan Al Bayhaqi
(۱۷۱۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ فَقُلْتُ لَہُ بَجَالَۃُ رَجُلٌ مَجْہُولٌ وَلَیْسَ بِالْمَشْہُورِ وَلَسْنَا نَحْتَجُّ بِرِوَایَۃِ مَجْہُولٍ وَلاَ نَعْرِفُ أَنَّ جَزِیَّ بْنَ مُعَاوِیَۃَ کَانَ عَامِلاً لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ سَاقَ الْکَلاَمَ عَلَیْہِ إِلَی أَنْ قَالَ وَلاَ نَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ رَوَی عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْحُکْمَ بَیْنَہُمْ إِلاَّ فِی الْمُوَادِعَیْنِ اللَّذَیْنِ رُجِمَا وَلاَ نَعْلَمُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِہِ بَعْدَہُ إِلاَّ مَا رَوَی بَجَالَۃُ مِمَّا یُوَافِقُ حُکْمَ الإِسْلاَمِ وَسِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِمَّا یُوَافِقُ قَوْلَنَا فِی أَنَّہُ لَیْسَ عَلَی الإِمَامِ أَنْ یَحْکُمَ إِلاَّ أَنْ یَشَائَ وَہَاتَانِ الرِّوَایَتَانِ وَإِنْ لَمْ تُخَالِفَانَا غَیْرُ مَعْرُوفَتَیْنِ عِنْدَنَا وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ لاَ نَکُونَ مِمَّنْ تَدْعُوہُ الْحُجَّۃُ عَلَی مَنْ خَالَفَہُ إِلَی قَبُولِ خَبَرِ مَنْ لاَ یَثْبُتُ خَبَرُہُ بِمَعْرِفَتِہِ عِنْدَہُ۔کَذَا قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی کِتَابِ الْحُدُودِ وَنَصَّ فِی کِتَابِ الْجِزْیَۃِ عَلَی أَنَّ لَیْسَ لِلإِمَامِ الْخِیَارُ فِی أَحَدٍ مِنَ الْمُعَاہَدِینَ الَّذِینَ یَجْرِی عَلَیْہِمُ الْحُکْمُ إِذَا جَاؤُوہُ فِی حَدٍّ لِلَّہِ وعَلَیْہِ أَنْ یُقِیمَہُ وَاحْتَجَّ بِقَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {حَتَّی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَدٍ وَہُمْ صَاغِرُونَ} [التوبۃ: ۲۹] قَالَ فَکَانَ الصَّغَارُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنْ یُجْرَی عَلَیْہِمْ حُکْمُ الإِسْلاَمِ وَذَکَرَ فِی ہَذَا الْکِتَابِ حَدِیثَ بَجَالَۃَ فِی الْجِزْیَۃَ وَقَالَ حَدِیثُ بَجَالَۃَ مُتَّصِلٌ ثَابِتٌ لأَنَّہُ أَدْرَکَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ رَجُلاً فِی زَمَانِہِ کَاتِبًا لِعُمَّالِہِ وَکَأَنَّ الشَّافِعِیَّ رَحِمَہُ اللَّہُ لَمْ یَقِفْ عَلَی حَالِ بَجَالَۃَ بْنِ عَبْدٍ وَیُقَالُ ابْنِ عَبْدَۃَ حِینَ صَنَّفَ کِتَابَ الْحُدُودِ ثُمَّ وَقَفَ عَلَیْہِ حِینَ صَنَّفَ کِتَابَ الْجِزْیَۃِ إِنْ کَانَ صَنَّفَہُ بَعْدَہُ وَحَدِیثُ بَجَالَۃَ أَحَدُ مَا اخْتَلَفَ فِیہِ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فَتَرَکَہُ مُسْلِمٌ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمَدِینِیِّ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ وَحَدِیثُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُرْسَلٌ وَقَابُوسُ بْنُ مُخَارِقٍ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْقَدِیمِ فِی کِتَابِ الْقَضَائِ وَقَدْ زَعَمَ بَعْضُ الْمُحَدِّثِینَ عَنْ عَوْفٍ الأَعْرَابِیِّ عَنِ الْحَسَنِ۔ [صحیح۔ للشافعی]
(١٧١٢٣) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں بجالہ بھی مجہول ہے اور جزی بن معایہ حضرت عمر (رض) کا عامل کون تھا یہ بھی پتہ نہیں اور ہمیں یہ بھی پتہ کہ یہود کے رجم والے فیصلے کے علاوہ کوئی اور فیصلہ بھی آپ نے ان کے بارے میں کیا تھا ؟ اور نہ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ کے صحابہ (رض) سے ایسی کوئی چیز ملتی۔ ایسے ہی امام شافعی فرماتے ہیں کہ جب کسی امام کے پاس اللہ کی حدود میں سے کوئی فیصلہ آجائے تو اسے کوئی اختیار نہیں کہ وہ فیصلہ کرے یا نہ کرے بلکہ حد کو قائم کرے اور انھوں نے دلیل پکڑی ہے : { حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّ ھُمْ صٰغِرُوْنَ ۔ } [التوبۃ ٢٩] تو صغار کا مطلب ہی یہ ہے کہ ان پر اسلام کا حکم نافذ کیا جائے اور پھر کہتے ہیں کہ حدیث بجالہ متصل اور ثابت ہے اور بجالہ یہ حضرت عمر (رض) کے عمال میں سے ہے تو پتہ یہ چلتا ہے کہ جب امام شافعی نے کتاب الحدود لکھی تب بجالہ کے بارے میں نہیں جانتے تھے اور جب کتاب الجزیہ لکھی تو ان کے حالات سے واقف ہوگئے تھے۔ حدیث بجالہ کے بارے میں بخاری و مسلم میں بھی اختلاف ہے۔ امام مسلم نے اس کی روایت نہیں لی امام بخاری نے لی ہے۔