(۱۷۱۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ ہُوَ ابْنُ سُفْیَانَ وَالْقَاسِمُ ہُوَ ابْنُ زَکَرِیَّا قَالاَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ عَنْ ہِشَامٍ : أَنَّ رَجُلاً سَرَقَ قَدَحًا فَأُتِیَ بِہِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَقَالَ ہِشَامٌ فَقَالَ أَبِی : إِنَّ الْیَدَ لاَ تُقْطَعُ بِالشَّیْئِ التَّافِہِ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہُ لَمْ تَکُنْ یَدٌ تُقْطَعُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی أَدْنَی مِنْ ثَمَنِ مِجَنٍّ حَجَفَۃٍ أَوْ تُرْسٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٧١٦٧) ہشام سے منقول ہے کہ ایک شخص نے ایک پیالہ چوری کیا تو اس کو حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کے پاس لایا گیا۔ ہشام فرماتے ہیں کہ میرے والد نے کہا کہ اس کا ہاتھ معمولی چیز پر نہیں کاٹا جائے گا۔ پھر فرمایا کہ مجھے عائشہ (رض) نے حدیث بیان کی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا جحفہ اور ترس ڈھال کی قیمت سے کم میں۔