(۱۷۲۱۲) وَرَوَاہُ عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ مُرْسَلاً مَرْفُوعًا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِامْرَأَۃٍ قَدْ فَجَرَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِہَا فَمُرَّ بِہَا عَلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدِ انْطُلِقَ بِہَا لِتُرْجَمَ فَأَخَذَہَا مِنْہُمْ فَخَلَّی سَبِیلَہَا فَأُتِیَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَلَّی سَبِیلَہَا فَقَالَ ادْعُوہُ لِی فَجَائَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَاللَّہِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثَۃٍ عَنِ الْغُلاَمِ حَتَّی یَبْلُغَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّی یَسْتَیْقِظَ وَعَنِ الْمَعْتُوہِ حَتَّی یَبْرَأَ ۔ وَإِنَّ ہَذِہِ مَعْتُوہَۃُ بَنِی فُلاَنٍ لَعَلَّ الَّذِی أَتَاہَا أَتَاہَا وَہِیَ فِی بَلاَئِہَا۔ فَقَالَ عُمَرُ : لاَ أَدْرِی۔ فَقَالَ عَلِیٌّ : وَأَنَا لاَ أَدْرِی۔ [صحیح]
(١٧٢١٢) ظبیان (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک عورت لائی گئی، اس نے گناہ کیا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے حکم دیا کہ اس کو رجم کر دو تو وہاں سے حضرت علی (رض) گزرے۔ حضرت علی (رض) نے جان لیا کہ اس کو رجم کر رہے ہیں تو اس عورت کو پکڑا اور اس اس کے راستے پر چھوڑ دیا۔ پھر حضرت عمر (رض) کے پاس آئے۔ انھوں نے خبر دی کہ حضرت علی (رض) نے اس عورت کو اس کے راستے پر چھوڑ دیا ہے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا عمر (رض) نے فرمایا : علی (رض) کو بلاؤ۔ جب حضرت علی (رض) آئے تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے امیر المؤمنین اللہ کی قسم ! آپ جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا ہے : 1 بچہ یہاں تک کہ بالغ ہوجائے۔ 2 سویا ہوا آدمی یہاں تک کہ بیدار ہوجائے۔ 3 مجنون یہاں تک کہ صحیح ہوجائے ۔ یہ فلاں کی بیٹیپاگل ہے، شاید اس کو فلاں چیز دی اس میں کوئی آزمائش ہو۔ حضرت عمر نے فرمایا : میں نہیں جانتا اور حضرت علی (رض) نے بھی فرمایا : میں بھی نہیں جانتا۔