(۱۷۲۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ أَبِی حُسَیْنٍ الْمَکِّیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: لاَ قَطْعَ فِی ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ وَلاَ فِی حَرِیسَۃِ جَبَلٍ فَإِذَا آوَاہُ الْمُرَاحُ أَوِ الْجَرِینُ فَالْقَطْعُ فِیمَا بَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ ۔ وَقَدْ رُوِّینَا ہَذَا مَوْصُولاً مِنْ حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَالْحَوَائِطُ لَیْسَتْ بِحِرْزٍ لِلنَّخْلِ وَلاَ لِلثَّمَرِ لأَنَّ أَکْثَرَہَا مُبَاحٌ یُدْخَلُ مِنْ جَوَانِبِہِ فَمَنْ سَرَقَ مِنْ حَائِطٍ شَیْئًا مِنْ ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ لَمْ یُقْطَعْ فَإِذَا آوَاہُ الْجَرِینِ قُطِعَ فِیہِ
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَجُمْلَۃُ الْحِرْزِ أَنْ یُنْظَرَ إِلَی الْمَسْرُوقِ فَإِنْ کَانَ الْمَوْضِعُ الَّذِی سُرِقَ فِیہِ تَنْسُبُہُ الْعَامَّۃُ إِلَی أَنَّہُ حِرْزٌ فِی مِثْلِ ذَلِکَ الْمَوْضِعِ قُطِعَ إِذَا أَخْرَجَہُ مِنَ الْحِرْزِ وَإِنْ لَمْ تُنْسُبْہُ الْعَامَّۃُ إِلَی أَنَّہُ حِرْزٌ لَمْ یُقْطَعْ۔[صحیح]
(١٧٢٢٤) ابن ابی حسین مکی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لٹکے ہوئے پھلوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور نہ پہاڑ والی بکری میں اور جو بکریاں باڑے میں ہوں ان کو چوری کرنے میں ہاتھ کاٹا جائے اگر ان کی قیمت ڈھال کے برابرہو۔ “ ہم نے اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے موصولاً بیان کیا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : کھجوروں والے باغ محفوظ نہیں ہوتے یا کوئی اور پھلوں والے ؛کیونکہ زیادہ ان کی سانڈوں سے داخل ہوتے ہیں۔ جس نے باغ کہ سے چوری کی اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہاں جب پھل ٹوکری میں آجائے تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس چوری والی جگہ کو دیکھا جائے اگر وہ جگہ محفوظ ہے تو چور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے اور اگر محفوظ نہ ہو تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔