(۱۷۲۵۸) قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ أَبِی الزَّعْرَائِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ کَانَ إِذَا أَخَذَ اللِّصَّ قَطَعَہُ ثُمَّ حَسَمَہُ ثُمَّ أَلْقَاہُ فِی السِّجْنِ فَإِذَا بَرِئُوا وَأَرَادَ أَنْ یُخْرِجَہُمْ فَقَالَ ارْفَعُوا أَیْدِیَکُمْ إِلَی اللَّہِ کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَیْہَا کَأَنَّہَا أُیُورُ الْحُمُرِ فَیَقُولُ مَنْ قَطَعَکُمْ فَیَقُولُونَ عَلِیٌّ فَیَقُولُ اللَّہُمَّ صَدَقُوا فِیکَ قَطَعْتُہُمْ وَفِیکَ أَرْسَلْتُہُمْ۔
قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ فِی الإِسْنَادِ الأَوَّلِ وَالْحَدِیثُ عِنْدِی حَدِیثُ ابْنِ أَبْجَرَ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَأَنَّہُ کَانَ یَأْمُرُ بِتَعَہُّدِہِمْ حَتَّی یَبْرَئُ وا إِلاَّ أَنَّہُ کَانَ یَحْبِسُہُمْ تَعْزِیرًا۔
(ت) فَقَدْ رَوَی سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : حَبْسُ الإِمَامِ بَعْدَ إِقَامَۃِ الْحَدِّ ظُلْمٌ۔
(١٧٢٥٨) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب وہ چور کو پکڑتے، اس کے ہاتھ کاٹتے، پھر اس کو داغ دیتے۔ پھر اس کو جیل میں ڈال دیتے۔ جب وہ تندرست ہوا اور ارادہ کیا کہ ان کو نکالیں تو فرمایا : اللہ کی طرف ہاتھ اٹھاؤ۔ وہ کہہ رہے تھے : تمہارے ہاتھ کس نے کاٹے ؟ وہ کہتے : علی (رض) نے ۔ وہ کہتے : اے اللہ ! انھوں نے سچ کہا ہے جس میں میں نے ان کے ہاتھ کاٹے ہیں اور جس میں میں نے ان کو بھیجا تھا۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : وہ اپنے زمانے میں حکم کرتے تھے یہاں تک کے وہ بری ہوجاتے مگر ان کے ہاتھ تعزیری سزا کے طور پر داغے ہوتے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : امام کو قید کرنا اس کی قائم حد کے بعد یہ ظلم ہے۔