(۱۷۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَاضِی بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ وَہُوَ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْیَزَنِیِّ قَالَ: قَدِمَ عَلَیْنَا أَبُو أَیُّوبَ غَازِیًا وَعُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ یَوْمَئِذٍ عَلَی مِصْرَ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ ، فَقَامَ إِلَیْہِ أَبُو أَیُّوبَ فَقَالَ: مَا ہَذِہِ الصَّلاَۃُ یَا عُقْبَۃُ؟ فَقَالَ: شُغِلْنَا۔ فَقَالَ: أَمَا وَاللَّہِ مَا آسَی إِلاَّ أَنْ یَظُنَّ النَّاسُ أَنَّکَ رَأَیْتَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ تَصْنَعُ ہَکَذَا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((لاَ تَزَالُ أُمَّتِی بِخَیْرٍ أَوْ عَلَی الْفِطْرَۃِ مَا لَمْ یُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّی تَشْتَبِکَ النُّجُومُ))۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۴۱۸]
(١٧٢٨) مرثد بن عبداللہ یزنی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ابو ایوب غازی بن کر آئے اور عقبہ بن عامر ان دنوں مصر میں تھے۔ انھوں نے مغرب کو مؤخر کردیا تو ابو ایوب ان کی طرف بڑھے اور کہا : اے عقبہ ! یہ کونسی نماز ہے ؟ انھوں نے کہا : ہم کو مشغول کردیا گیا تھا، ایوب نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے قطعاً افسوس نہیں ہے مگر یہ لوگ گمان کریں گے کہ آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (اس طرح) کرتے دیکھا اور پھر اس طرح تو کرے گا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ میری امت ہمیشہ بھلائی یا فطرت پر رہے گی جب تک مغرب کو مؤخر نہیں کریں گی حتی کہ ستارے چمکنے لگ جائیں۔