(۱۷۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَمِّہِ أَبِی سُہَیْلِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَتَبَ إِلَی أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ: أَنْ صَلِّ الظُّہْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَہَا صُفْرَۃٌ ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، وَالْعِشَائَ مَا لَمْ تَنَمْ ، وَصَلِّ الصُّبْحَ وَالنُّجُومُ بَادِیَۃٌ ، وَاقْرَأْ فِیہَا سُورَتَیْنِ طَوِیلَتَیْنِ مِنَ الْمُفَصَّلِ۔ [صحیح۔ أخرجہ الحاکم ۲/۳۹۵]
(١٧٢٩) سہیل بن مالک اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) نے سیدنا ابی موسیٰ اشعری (رض) کی طرف لکھا کہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھا جب سورج ڈھل جائے اور عصر کی اس حالت میں کہ سورج سفید صاف ہو، زردی کے داخل ہونے سے پہلے اور مغرب کی جب سورج غروب ہوجائے اور عشا کی (اس وقت ) جب تک تو سو نہ جائے اور صبح کی نماز پڑھا کہ ستارے ابھی ظاہر ہوں اور اس میں مفصل سورتوں میں سے دو لمبی سورتیں پڑھ۔