(۱۷۲۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ إِسْحَاقَ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ أَبِی الْمُنْذِرِ الْبَرَّادِ عَنْ أَبِی أُمَیَّۃَ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ : أَنَّ سَارِقًا سَرَقَ مَتَاعًا فَأَخَذُوا مَعَہُ الْمَتَاعَ فَاعْتَرَفَ فَأُتِیَ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ : لاَ إِخَالُکَ سَرَقْتَ ۔ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَہَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یُقْطَعَ فَلَمَّا قُطِعَ قَالَ : تُبْ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ۔ قَالَ : أَتُوبُ إِلَی اللَّہِ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : اللَّہُمَّ تُبْ عَلَیْہِ ۔
وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ إِسْحَاقَ وَقَالَ عَنْ أَبِی أُمَیَّۃَ الْمَخْزُومِیِّ وَقَالَ فِی مَتْنِہِ : وَلَمْ یُوجَدْ مَعَہُ مَتَاعٌ۔
[ضعیف]
(١٧٢٧٦) ابو امیہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کوئی سامان چوری کیا۔ وہ چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا ۔ اس نے اعتراف کیا اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ( (لا إخالک سرقت) ) اس نے کہا : جی ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ الفاظ تین مرتبہ فرمائے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ پھر جب ہاتھ کاٹا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اللہ تعالیٰ سے توبہ کر۔ اس نے کہا : میں اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے اللہ ! اس کی توبہ قبول فرما ! “