(۱۷۲۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ : أُتِیَ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیُّ بِامْرَأَۃٍ سَرَقَتْ جَمَلاً فَقَالَ أَسَرَقْتِ قُولِی لاَ۔
وَعَنْ سُفْیَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : اطْرُدُوا الْمُعْتَرِفِینَ قَالَ سُفْیَانُ یَعْنِی الْمُعْتَرِفِینَ بِالْحُدُودِ۔ [ضعیف]
(١٧٢٧٩) ابراہیم سے روایت ہے کہ ابو مسعود انصاری کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس نے ایک اونٹ چوری کیا تھا۔ ابو مسعود نے فرمایا : کیا تو نے چوری کی ہے اس نے کہا : نہیں۔
ابراہیم سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : تم جلا وطن اعتراف کرنے والوں کو کرو۔ ابو سفیان کہتے ہیں : یعنی حدود سے اعتراف کرنے والوں کو نکالا جائے گا۔