(۱۷۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ وَعُمَارَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ: کَانَ عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ وَنَحْنَ نُرَی أَنَّ الشَّمْسَ طَالِعَۃٌ قَالَ فَنَظَرْنَا یَوْمًا إِلَی ذَلِکَ فَقَالَ: مَا تَنْظُرُونَ؟ قَالُوا: إِلَی الشَّمْسِ۔ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: ہَذَا وَالَّذِی لاَ إِلَہَ غَیْرُہُ مِیقَاتُ ہَذِہِ الصَّلاَۃِ ثُمَّ قَالَ {أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ إِلَی غَسَقِ اللَّیْلِ} فَہَذَا دُلُوکُ الشَّمْسِ۔ صحیح أخرجہ الحاکم [۲/۳۹۵]
(١٧٣٠) عبد الرحمن بن یزید سے روایت ہے کہعبداللہ بن مسعود (رض) مغرب کی نماز پڑھایا کرتے تھے، جب کہ ہم دیکھتے تھے کہ سورج طلوع ہونے والا ہو تاہم نے ایک دن اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا : تم کیا دیکھ رہے ہو ؟ انھوں نے کہا : ہم سورج کو دیکھ رہے ہیں۔ عبداللہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، یہ اس نماز کے اوقات ہیں، پھر فرمایا : { أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ إِلَی غَسَقِ اللَّیْلِ }[الاسراء ٧٨] یہ سورج کا ڈھل جانا ہے۔