(۱۷۳۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ حَدَّثْتُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : مَنْ حَارَبَ فَہُوَ مُحَارِبٌ۔
قَالَ سَعِیدٌ : فَإِنْ أَصَابَ دَمًا قُتِلَ وَإِنْ أَصَابَ دَمًا وَمَالاً صُلِبَ فَإِنَّ الصَّلْبَ أَشَدُّ وَإِذَا أَصَابَ مَالاً وَلَمْ یُصِبْ دَمًا قُطِعَتْ یَدُہُ وَرِجْلُہُ لِقَوْلِہِ {أَوْ تُقَطَّعَ أَیْدِیہِمْ وَأَرْجُلُہُمْ مِنْ خِلاَفٍ} [المائدۃ ۳۴]فَإِنْ تَابَ فَتَوْبَتُہُ بَیْنَہُ وَبَیْنَ اللَّہِ وَیُقَامُ عَلَیْہِ الْحَدُّ۔ [ضعیف]
(١٧٣١٩) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جو ڈاکہ زنی کرے وہی جنگ کرنے والا ہے اور کہتے ہیں کہ اگر صرف قتل کیا ہے تو اسے بھی قتل کیا جائے۔ اگر قتل کے ساتھ مال بھی لوٹا ہے تو اسے قتل اور پھر سولی پر لٹکایا جائے ۔ اگر صرف مال لوٹا ہے قتل نہیں کیا تو اس کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں۔ اگر توبہ کرلے تو یہ اس کے اور اللہ کے درمیان ہے حد قائم کی جائے گی۔