(۱۷۳۳۳)وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رِجَالاً مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ قَالُوا لَہُ إِنَّا نَبْتَاعُ مِنْ ثَمَرِ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ فَنَعْصِرُہُ خَمْرًا فَنَبِیعُہَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : إِنِّی أُشْہِدُ اللَّہَ عَلَیْکُمْ وَمَلاَئِکَتَہُ وَمَنْ سَمِعَ مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ أَنِّی لاَ آمُرُکُمْ أَنْ تَبِیعُوہَا وَلاَ تَبْتَاعُوہَا وَلاَ تَعْصِرُوہَا وَلاَ تُسْقُوہَا فَإِنَّہَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ۔ [صحیح]
(١٧٣٣٣) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ اہل عراق میں سے کسی آدمی نے کہا کہ ہم کھجور اور انگوروں کا پھل خریدتے ہی، پھر ہم اس کی شراب بناتے، نچوڑتے ہیں پھر ہم اس کو بیچتے ہیں۔ عبداللہ نے فرمایا : میں تم پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور فرشتوں کو اور جو جنوں اور انسانوں میں سے سن رہے ہیں۔ میں تمہیں حکم نہیں دیتا کہ تم اس کو خریدو، نہ بیچو اور نہ اس کو نچوڑو اور نہ تم پلاؤ یہ ناپاک ہے اور شیطانی عمل ہے۔