(۱۷۳۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ وَأَبُو زَکَرِیَّا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِسِ أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَہُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْحَکَمِ حَدَّثَہُ عَنْ أُمِّ حَبِیبَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّ نَاسًا مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَعَلَّمَہُمُ الصَّلاَۃَ وَالسُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ ثُمَّ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُہُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِیرِ۔ فَقَالَ : الْغُبَیْرَائُ ؟ ۔ قَالُوا : نَعَمْ۔ قَالَ : لاَ تَطْعَمُوہُ ۔ ثُمَّ لَمَّا کَانَ بَعْدَ یَوْمَیْنِ ذَکَرُوہُ لَہُ أَیْضًا فَقَالَ: الْغُبَیْرَائُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ۔ قَالَ : لاَ تَطْعَمُوہُ ۔ ثُمَّ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ یَنْطَلِقُوا سَأَلُوہُ عَنْہُ فَقَالَ : الْغُبَیْرَائُ ۔ قَالُوا : نَعَمْ۔ قَالَ : لاَ تَطْعَمُوہُ ۔ [ضعیف]
(١٧٣٦٨) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت ام حبیبہ (رض) فرماتی ہیں : یمن سے آپ کے پاس کچھ لوگ آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو نماز سکھلائی اور سنن فرمائض سکھلائے ۔ پھر انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم گندم سے شراب بناتے ہیں اور جو سے بھی۔ آپ نے فرمایا : اس میں نشہ ہوتا ہے ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے نہ پیو۔ پھر انھوں نے دو دن کے بعد یہ ذکر کیا آپ نے فرمایا : اس میں نشہ ہے، اسے نہ کھاؤ۔ پھر انھوں نے ارادہ کیا کہ وہ واپس جائیں۔ انھوں نے سوال کیا تو آپ نے فرمایا : اس میں نشہ ہے ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے نہ کھاؤ۔