(۱۷۳۸۷) قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِیَّ یَخْطُبُ فَقَالَ : خَمْرُ الْمَدِینَۃِ مِنَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ وَخَمْرُ أَہْلِ فَارِسَ مِنَ الْعِنَبِ وَخَمْرُ أَہْلِ الْیَمَنِ الْبِتْعُ وَہُوَ مِنَ الْعَسَلِ وَخَمْرُ الْحَبَشِ السُّکُرْکَۃُ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : وَمِنَ الأَشْرِبَۃِ أَیْضًا الْفَضِیخُ وَہُوَ مَا افْتُضِخَ مِنَ الْبُسْرِ مِنْ غَیْرِ أَنْ تَمَسَّہُ النَّارُ وَفِیہِ یُرْوَی عَنِ ابْنِ عُمَرَ لَیْسِ بِالْفَضِیخِ وَلَکِنَّہُ الْفَضُوخُ۔ [ضعیف]
(١٧٣٨٧) حضرت صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ میں نے ابو موسیٰ اشعری کو خطبہ دیتے سنا، آپ نے فرمایا : اہل مدینہ کی شراب تر کھجور سے ہے اور اہل فارس انگور سے بناتے ہیں اور اہل یمن شہد سے اور اہل حبشہ مکئی کے دانے سے اور حضرت ابو عبید فرماتے ہیں کہ خضیحہ بھی ایک شراب ہے جو تر کھجور سے بنتی ہے لیکن اسے آگ نہیں چھوتی۔