hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 17394

.

سنن البيهقي

17394
Sunan Al Bayhaqi
(۱۷۳۸۸) وَیُرْوَی عَنْ أَنَسٍ أَنَّہُ قَالَ نَزَلَ تَحْرِیمُ الْخَمْرِ وَمَا کَانَتْ غَیْرَ فَضِیخِکُمْ ہَذَا۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنِیہِ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ صُہَیْبٍ عَنْ أَنَسٍ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : فَإِنْ کَانَ مَعَ الْبُسْرِ تَمْرٌ فَہُوَ الَّذِی یُسَمَّی الْخَلِیطَیْنِ وَکَذَلِکَ إِنْ کَانَ زَبِیبًا وَتَمْرًا فَہُوَ مِثْلُہُ۔ وَمِنَ الأَشْرِبَۃِ الْمُنَصَّفُ وَہُوَ أَنْ یُطْبَخَ عَصِیرُ الْعِنَبِ قَبْلَ أَنْ یُغْلَی حَتَّی یَذْہَبَ نِصْفُہُ وَقَدْ بَلَغَنِی أَنَّہُ یُسْکِرُ فَإِنْ کَانَ یُسْکِرُ فَہُوَ حَرَامٌ وَإِنْ طُبِخَ حَتَّی یَذْہَبَ ثُلُثَاہُ وَیَبْقَی ثُلُثُہُ فَہُوَ الطِّلاَئُ وَإِنَّمَا سُمِّیَ بِذَلِکَ لأَنَّہُ شُبِّہَ بِطِلاَئِ الإِبِلِ فِی ثَخَنِہِ وَسَوَادِہِ وَبَعْضُ الْعَرَبِ یَجْعَلُ الطِّلاَئَ الْخَمْرَ بِعَیْنِہَا یُرْوَی أَنَّ عَبِیدَ بْنَ الأَبْرَصِ قَالَ فِی مَثَلٍ لَہُ ہِیَ الْخَمْرُ تُکْنَی الطِّلاَئَ کَمَا الذِّئْبُ یُکْنَی أَبَا جَعْدَۃَ قَالَ وَکَذَلِکَ الْبَاذَقُ وَقَدْ یُسَمَّی بِہِ الْخَمْرُ وَالْمَطْبُوخُ وَہُوَ الَّذِی یُرْوَی فِیہِ الْحَدِیثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الْبَاذَقِ فَقَالَ سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذَقَ وَمَا أَسْکَرَ فَہُوَ حَرَامٌ وَإِنَّمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذَلِکَ لأَنَّ الْبَاذَقَ کَلِمَۃٌ فَارِسِیَّۃٌ عُرِّبَتْ فَلَمْ یَعْرِفْہَا۔ وَذَکَرَ أَبُو عُبَیْدٍ أَسْمَائً سِوَاہَا ثُمَّ قَالَ وَہَذِہِ الأَشْرِبَۃُ الْمُسَمَّاۃُ عِنْدِی کُلُّہَا کِنَایَۃٌ عَنِ اسْمِ الْخَمْرِ وَلاَ أَحْسَبُہَا إِلاَّ دَاخِلَۃً فِی حَدِیثِ النَّبِیِّ -ﷺ-: إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِی یَشْرَبُونَ الْخَمْرَ بِاسْمٍ یُسَمُّونَہَا بِہِ۔ قَالَ: وَمِمَّا یُبَیِّنُہُ قَوْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: الْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ۔[صحیح]
(١٧٣٨٨) حضرت ابو عبید فرماتے ہیں کہ اگر خشک اور تر کھجور ملا کر شراب بنائی جائے تو اس کا نام خلیطین ہوتا ہے اور منقیٰ اور کھجور بھی اسی طرح ہے۔ ایسے ہی ایک مشروب منصف بھی ہے، وہ یہ کہ انگور کے رس کو پکایا جاتا ہے، اس کے خراب ہونے سے پہلے یہاں تک کہ وہ آدھا رہ جاتا ہے اور مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ اس میں نشہ پیدا ہوجاتا ہے تو پھر یہ حرام ہے۔ اگر اس کو پکانے کے بعد اس کا تیسرا حصہ بچے تو یہ طلاء ہوتا ہے۔ اونٹوں کے طلاء جیسا جو گاڑھا ہوتا ہے اور سیاہ ہوتا ہے اور بعض عرب طلاء خمر کو بعینہٖ ایسے ہی بناتے ہیں۔ عبید بن اصرم نے اسی بارے میں یہ شعر کہا ہے۔
یہ شراب کی کنیت طلاء رکھتے ہیں
جیسے بھیڑیے کی کنیت ابو جعدہ رکھی جاتی ہے
یہ سارے مشروبات جو خمر کے نام سے کنایہ ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ سب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان میں داخل ہیں کہ میری امت کے لوگ شراب پییں گے لیکن اس کا نام دوسرا رکھ دیں گے اور حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : جو بھی عقل کو ڈھانپے وہ شراب ہے۔