hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 17431

.

سنن البيهقي

17431
Sunan Al Bayhaqi
(۱۷۴۲۵) وَذَلِکَ فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَعَنْ سَلَمَۃَ بْنِ عَوْفِ بْنِ سَلاَمَۃَ أَخْبَرَاہُ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ الأَنْصَارِیِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ قَدِمَ الشَّامَ فَشَکَا إِلَیْہِ أَہْلُ الشَّامِ وَبَائَ الأَرْضِ وَثِقَلَہَا وَقَالُوا : لاَ یُصْلِحُنَا إِلاَّ ہَذَا الشَّرَابُ۔فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : اشْرَبُوا الْعَسَلَ۔ فَقَالُوا : لاَ یُصْلِحُنَا الْعَسَلُ۔ فَقَالَ رِجَالٌ مِنْ أَہْلِ الأَرْضِ : ہَلْ لَکَ أَنْ نَجْعَلَ لَکَ مِنْ ہَذَا الشَّرَابِ شَیْئًا لاَ یُسْکِرُ؟ فَقَالَ : نَعَمْ فَطَبَخُوہُ حَتَّی ذَہَبَ مِنْہُ الثُّلُثَانِ وَبَقِیَ الثُّلُثُ فَأَتَوْا بِہِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَدْخَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِیہِ إِصْبَعَہُ ثُمَّ رَفَعَ یَدَہُ فَتَبِعَہَا یَتَمَطَّطُ فَقَالَ : ہَذَا الطِّلاَئُ ہَذَا مِثْلُ طِلاَئِ الإِبِلِ۔ فَأَمَرَہُمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یَشْرَبُوہُ فَقَالَ لَہُ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ : أَحْلَلْتَہَا وَاللَّہِ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : کَلاَّ وَاللَّہِ اللَّہُمَّ إِنِّی لاَ أُحِلُّ لَہُمْ شَیْئًا حَرَّمْتَہُ عَلَیْہِمْ وَلاَ أُحَرِّمُ عَلَیْہِمْ شَیْئًا أَحْلَلْتَہُ لَہُمْ۔ [صحیح]
(١٧٤٢٥) محمود بن لبید انصاری کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) شام آئے تو اہل شام نے وہاں کی بیماریوں کی شکایت کی اور کہا کہ ہماری اصلاح صرف اس پینے سے ہوسکتی ہے تو فرمایا : شہد پیا کرو تو بولے : شہد سے ہم ٹھیک نہیں ہوں گے۔ ایک شخص کہنے لگا کہ وہ مشروب ہم آپ کے لیے بنائیں کہ اس میں نشہ نہیں ہوتا ؟ فرمایا : ہاں تو انھوں نے اسے اتنا پکایا کہ اس کا دو تہائی ختم ہوگیا۔ صرف ثلث بچا تو وہ آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے اپنی انگلی اس میں داخل فرمائی اور پھر اسے باہر نکالا تو وہ ربڑ کی طرح آپ کی انگلی سے بہہ رہا تھا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ تو اونٹوں کے طلاء کی طرح ہے تو حضرت عمر (رض) نے انھیں اس کی اجازت دے دی ۔ عبادہ بن صامت (رض) کہنے لگے کہ واللہ ! کیا آپ نے یہ حلال کردیا ؟ فرمایا : واللہ نہیں جو چیز آپ نے اس کے لیے حرام کی ہے میں اس کو حلال اور جو حلال کی ہے میں اس کو حرام نہیں کرسکتا۔